Weather (state,county)

Media-Solutin.jpg

Breaking News

ہنزہ: میں آئس سکیٹنگ کرنے والی ملاک فیصل آدھ انچ کے سٹیل پر گھومنا آسان نہیں


چند روز پہلے پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ میں نہایت مہارت سے برف پر فِگر آئس سکیٹنگ کا مظاہرہ کرتی جس ننھی لڑکی کی ویڈیو وائرل ہوئی وہ ملاک فیصل ہیں۔


ان کے والد کا تعلق پاکستان سے جبکہ والدہ کا لبیا سے ہے مگر یہ خاندان کام کے سلسلے میں دوبئی میں مقیم ہے۔

ملاک جنھیں ونٹر سپورٹ ایسوسی ایشن آف گلگت بلتستان اور ایڈوینچر ٹورازم گروپ آف پی ٹی ڈی سی نے پاکستان میں آنے کی دعوت دی، کہتی ہیں کہ میں تیسری مرتبہ پاکستان آئی ہوں۔

پہلی بار پاکستان آنے سے پہلے میں نے گوگل پر پاکستان کا نام لکھا اور شمالی علاقوں کی برف سے ڈھکی تصاویر دیکھیں تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ پاکستان ہے۔

ملاک کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے پاکستان میں فِگر آئس سکیٹنگ کو متعارف کروایاہے۔

12 سالہ ملاک نے اپنی زندگی کے آٹھ سال فگِر سکیٹنگ کرتے گزارے ہیں۔ بھلے دن کا آغاز ہو یا اختتام، سکیٹنگ ساتھ ساتھ چلتی ہے لیکن یہ نہیں کہ وہ پڑھائی میں کسی سے پیچھے ہیں۔ ہر سبجیکٹ میں اے لے کر وہ اپنی کلاس کے ذہین بچوں میں سے ایک ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’والد والدہ دونوں سکیٹنگ کرتے تھے میں نے بھی کی مجھے یہ کرنا بہت اچھا لگا شروع میں یہ بطور مشغلہ تھا پھر میں نے اسے ذرا پروفیشنل انداز میں لیا اور پانچ سال کی عمر میں، میں نے پہلا گولڈ میڈل ابوظہبی میں ایک مقابلے میں جیتا۔

میرے والدین اس کے لیے مجھے ہر سہولت دیتے ہیں اور میری مدد کرتے ہیں۔

چھٹی جماعت کی طالبہ ملاک کہتی ہیں ’شروع میں تعلیم اور سکیٹنگ کو ساتھ ساتھ چلانا کسی چیلینج سے کم نہیں تھا۔ مشکل ہوتی تھی لیکن پھر جب میں نے ٹائم کو مینیج کیا تو سب ٹھیک ہوتا گیا۔

میں ایک ہفتے میں تقریباً 20 گھنٹے سکیٹنگ کی ٹریننگ کرتی ہوں۔ روزانہ برف پر اور برف کے باہر تین سے چار گھٹنے ٹریننگ کرتی ہوں۔

ملاک کہتی ہیں کہ آدھ انچ کے بلیڈ پر مسلسل پھسلتے رہنا آسان نہیں ہوتا یہ واقعی بہت مشکل ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فگر سکیٹنگ بہت آسان ہے۔ یا آپ بہت سے جمپ لگا سکتے ہیں اس میں ایک خاص لیول تک پہنچ کہ آپ جمپ لگا سکیں سپِن (گھوم) سکیں اس کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔اس میں توازن قائم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک پاؤں پر آپ ادھر ادھر گھوم رہے ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا ’میری کوچ کا نام لودا ہے وہ بہت اچھی کوچنگ کرتی ہیں میری والدہ بھی میری کوچنگ کرتی ہیں خاص طور پر میرے مقابلے سے پہلے وہ مجھے ذہنی طور پر تیار ہونے میں مدد کرتی ہیں۔

اسی طرح میرا سکول بھی میری بہت مدد کرتا ہے مجھ سے تعاون کرتا ہے۔

اس وقت بہت مشکل ہوتا ہے جب درمیان میں میرے پیپر ہوتے ہیں۔ کیونکہ آپ کو سکیٹنگ کرنی ہوتی ہے۔ میں ایسا کرتی ہوں کہ میں سکیٹنگ کے دوران سکول کے بارے میں کسی بھی چیز کے بارے میں نہیں سوچتی کیونکہ اگر ایسا ہو تو آپ سوچتے ہیں مجھے یہ بھی کرنا ہے، وہ بھی کرنا ہے تو آپ توجہ مرکوز نہیں کر سکتے۔ اس لیے سکیٹنگ کے بعد میں پڑھتی ہوں اور پیپر دیتی ہوں۔

لیکن مستقبل کے بارے میں کیا پلان ہے؟

اس سوال کے جواب میں ملاک نے بتایا کہ ان کے خیال میں سکیٹنگ کوچ بننا ان کا دوسرا آپشن ہوگا وہ بطور کریئر شاید انجینئیر بنیں اور اس کے علاوہ انھیں آرٹ پسند ہے۔

ابھی ملاک سپین کے ایک کیمپ سے وابستہ ہیں۔ لیکن وہ یہ خواہش رکھتی ہیں کہ وہ پاکستان کی ترجمانی بین الاقوامی سطح پر کریں اور پاکستان کا جھنڈا لہرائیں لیکن ان کی یہ خواہش ابھی پوری نہیں ہو سکی اس کی وجہ پاکستان میں ٹیلنٹ کے باوجود اس کھیل پر توجہ نہ ہونا اور اس کی باضابطہ فیڈریشن کا نہ ہونا ہے۔

ملاک کہتی ہیں کہ ان کی والدہ اور والد نے یہاں پاکستان میں تینوں دوروں کے دوران کیمپ لگائے۔ بچوں اور نوجوانوں کو کوچنگ بھی کی اور ساتھ ہی خود ملاک نے بھی سکیٹنگ کی۔

ملاک نے جون میں کراچی کا دورہ کیا تھا اور وہاں ان کی والدہ نسرین فیصل نے بچوں کو ٹریننگ بھی دی تھی

وہ بتاتی ہیں کہ پہلی بار میں نلتر آئی تھی، پھر دوسری مرتبہ کراچی اور اب اس بار مالم جبہ، ہنزہ اور گلگت بلتستان گئی۔

پاکستان واقعی بہت خوبصورت ہے۔ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں انھوں نے میرے کام میں میری بہت مدد کی۔

ان کے خیال میں پاکستان میں بہت صلاحیت ہے خاص طور پر شمالی علاقوں میں موجود لڑکیوں اور لڑکوں میں سکیٹنک آئس ہاکی کے لیے بہت ٹیلنٹ ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں موجود سکیٹرز خاص طور پر شمالی علاقوں میں بہت صلاحیت ہے کہ وہ چھوٹے اور بڑے مقابلوں میں حصہ لے سکیں، یقیناً انھیں بہت زیادہ ٹریننگ کی ضرورت ہوگی۔

وہ کہتی ہیں کہ دوبئی کے مال میں مصنوعی گراؤنڈ پر آئس سکیٹنگ کرنا اور یہاں باہر حقیقی برف میں سکیٹنگ کرنا بہت مختلف تھا اور انھیں بہت اچھا لگا۔

وہ پاکستان کے ان تمام اداروں کی شکرگزار ہیں جنھوں نے انھیں یہاں آنے کی دعوت دی۔

ملاک کے والد فیصل اور والدہ نسرین ان کا تمام خرچ خود اٹھاتے ہیں جو انھیں لاکھوں پاکستانی روپوں کے برابر پڑتا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے بچوں میں موجود اس ٹیلنٹ کو بروے کار لایا جانا چاہیے اور باضابطہ اس کھیل میں حصہ لینے کے لیے کام کرنے پر حکومتی توجہ ہونی چاہیے

اکلوتی ہونے کے ناطے بظاہر ملاک کو والدین کی بھر پور توجہ حاصل ہے لیکن بات کرنے اور اگر کسی سوال کا جواب مکمل معلوم نہیں تھا تو والدین سے مکمل معلومات لینے میں وہ اپنی عمر سے بہت آگے دکھائی دیں۔

میں نے پوچھا کہ کامیابی کیسی لگتی ہے اور جب ناکام ہو جائیں تو کیا سوچتی ہیں؟

تو ان کا جواب تھا مجھے اور میرے والدین کو مجھ پر بہت فخر ہے۔


بہت اچھا لگتا ہے جب آپ جیت جاتے ہیں۔ بہت خوشی ہوتی ہے۔ آپ دوسروں سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں، کھیل رہے ہوتے ہیں تو دباؤ میں ہوتے ہیں لیکن جیت کے بعد دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔ اور جب ہار جائیں تو آپ سوچتے ہیں کہ آپ کچھ بہتر بھی کر سکتے تھے۔ آپ نے اپنے دوستوں کو مایوس کیا ہے لیکن میں آگے بڑھتی ہوں اور اسے ایک طرف کر دیتی ہوں اور سکیٹنگ کو بہتر کرنے کے لیے نئی چیزوں پر کام کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ اگلے مقابلے میں جیت جاؤں گی۔

 

A NETWORK OF GILGIT BALTISTAN

No comments