کورونا وائرس: بلتستان کے پہاڑوں میں تعلیم، تحفظ اور تسخیر کے روشن دیے بجھ رہے ہیں


وہ 24 مئی 2019 کا ایک بہت روشن دن تھا جب بلتستان کی ہوشے وادی کی 16 سالہ آمنہ حنیف نے سپین کی بلند ترین چوٹی ٹائی ڈے پر سبز ہلالی پرچم لہرایا اور انھیں دنیا اپنے قدموں میں اور آسمان ہاتھ بھر دور نظر آیا۔

آمنہ کی آنکھوں میں ایک اور خواب اترا کہ وہ ایسا ہی سبز پرچم کے ٹو اور مانٹ ایورسٹ پر لہرا رہی ہیں۔ آمنہ کے اس سفر کو آگے بڑھنا اور خواب کو حقیقت میں ڈھلنا تھا مگر کورونا وائرس کی تباہ کاریوں نے اس خواب کی تعبیر کو بھی دھندلا دیا ہے۔

گلگت بلتستان کی دلکش پہاڑی وادی بھاشا میں نایاب جانوروں کے تحفظ، بچیوں کی تعلیم اور تسخیر (کوہ پیمائی) کے جو دیے جل رہے تھے کورونا وائرس کے سائے اب انھیں بجھانے کے درپے ہیں۔

سکردو کی ایک تنظیم بلتستان وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے برفانی تیندووں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بھاشا وادی میں بچیوں کی تعلیم کا بھی آغاز کیا ہے۔

اب وہاں ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں بچیاں زیر تعلیم ہیں اوران ہی سکولوں میں آمنہ حنیف، صدیقہ بانو اور سعدیہ بتول جیسی باصلاحیت بچیوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور کوہ پیمائی کے کٹھن راستوں پر قدم رکھا جہاں کامیابیوں نے بڑھ کر ان کے قدم چومے اور پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا میں اجاگر ہوا۔

اس خوبصورت کہانی کا آغاز دو دہائی پہلے ہوتا ہے جب بلتستان وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے بلتستان کے علاقے میں دنیا کے نایاب جانور خصوصا برفانی تیندوے کے تحفظ پر کام شروع کیا۔ لیکن کہانی نے اس وقت ایک خوبصورت موڑ لیا جب برفانی تیندوے کے تحفظ کے اس منصوبے کا جائزہ لینے ایک اطالوی خاتون تانیہ روزن وہاں پہنچیں۔

تانیہ جنگلی حیات کے حوالے سے کام کرتی ہیں اور بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کے کیٹ اسپیشلسٹ گروپ کی ممبر بھی ہیں۔

انھیں بتایا گیا کہ اس علاقے کی کوئی بچی سکول نہیں جاتی اور اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ بچیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے بلکہ محدود معاشی وسائل کی بنا پر سکول بھیجنے کے لیے روایتی طور پرلڑکے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

تانیہ نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ وہ ان بچیوں کی تعلیم کے لیے ضرور کچھ کریں

بتدا انھوں نے خود سے کی، وہ اور ان کی دس سالہ بیٹی اس کام کی پہلی عطیہ کنندہ بنیں اور یوں اس دور دراز وادی میں 76 بچیوں کی تعلیم کا آغاز ہوا

بلتستان وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غلام محمد کے مطابق ان کی تنظیم نے بلتستان میں برفانی تیندووں کے تحفظ کے لیے 1999 میں کام کا آغاز کیا تھا

گلگت بلتستان کے علاقے پر تین پہاڑی سلسلے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش سایہ فگن ہیں اور یہ منفرد محل وقوع ہزارہا کمیاب اور نایاب جانوروں کا مسکن ہے

ان نایاب جانورں میں سرفہرست برفانی تیندوا ہے جس کی نسل کو بقا کے خطرات لاحق ہیں۔ برفانی تیندوے کے تحفظ کے لیے سرکاری طور پر اس کے مسکن کو قراقرم نیشنل پارک قرار دیا گیا ہے تاکہ مداخلت سے پاک اس قدرتی ماحول میں اس جان دار کی نسل بحفاظت پروان چڑھ سکے

بلتستان وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے سب سے پہلے اسی تنازع کی روک تھام کے لیے کام کیا۔ غلام محمد کے مطابق ان کی تنظیم نے مقامی آبادی کے زیر استعمال چراگاہوں میں مویشی خانے تعمیر کیے تاکہ مویشی برفانی تیندوے کے حملے سے اور برفانی تیندوا انسانوں کے جوابی حملے سے محفوظ رہے ۔

پھر بھی کوئی جانور مارا جاتا ہے تو زر تلافی ادا کیا جاتا ہے۔ مویشیوں کی انشورنس کے علاوہ کیمرا فکسنگ اور مقامی آبادی کو برفانی تیندووں کے حوالے سے آگاہی بھی ان کے پروگرام کا حصہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ برفانی تیندوے کے تحفظ کے کام میں ہماری تمام محنت کے باوجود مقامی آبادی اس وقت دل سے ہمارے ساتھ شامل ہوئی جب یہاں لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ لوگوں نے دل سے محسوس کیاکہ ان برفانی تیندووں کے باعث ہی ان کے علاقے میں علم کی روشنی پھیل رہی ہے، ان کی بچیوں کی زندگی بدل رہی ہے لہذا ان برفانی تیندووں کی حفاظت ضروری ہے

اس وادی میں تعلیم کی پہلی شمع جلانے والی تانیہ تھیں اور پھر چراغ سے چراغ جلتا رہا۔ تانیہ کے توسط سے ایک ماہر تعلیم جینیوویئی چبوٹ سے رابطہ ہوا جن کے شوہر ڈاکٹر چبوٹ اپنی ایک تحقیق کے سلسلے میں کئی سال آزاد کشمیر اور بلتستان میں قیام کرچکے تھے۔

پاکستان میں پرویز سجاد اقرافنڈ کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق اس فنڈ کا مقصد گلگت بلتستان کے پسماندہ گاں میں تعلیم خصوصا بچیوں کی تعلیم کا فروغ ہے۔ پہلا سکول سبری بھاشا ویلی میں کھولا گیا اور اب تک 15 گاں میں 15 سکول کھولے جا چکے ہیں جن میں داخل ہونے والی بچیوں کی اب تک کی تعداد 4439 ہے۔

ان سکولوں میں تعلیم کے حوالے سے طالبات کی تمام ضروریات مثلا یونیفارم ، کتابیں، بستہ وغیرہ بھی پوری کی جاتی ہیں۔ یہ سکول 74 کے قریب اساتذہ کے لیے ذریعہِ روزگاربھی ہیں اور اب تک 500 کے قریب اساتذہ کو ٹریننگ دی جاچکی ہے جن میں سرکاری اسکولوں کی ٹیچرز بھی شامل ہیں۔

بچوں کو مزید اعلی تعلیم کے لیے اسکالر شپ بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ بچیاں تعلیم کے حصول کے بعد واپس اپنے علاقے میں بطور ٹیچر بھی کام کرتی ہیں

ان سکولوں میں جانے والی بہت سی لڑکیاں ایسی بھی ہیں جو اپنی نسل کی پہلی فرد ہیں جو سکول تک پہنچی۔

کم عمر کوہ پیما آمنہ حنیف نے بھی ابتدائی تعلیم اقرا فنڈ کے قائم کردہ سکول سے ہی حاصل کی۔ بعدازاں مزید تعلیم کے لیے وہ اقرا فنڈ کی سکالر شپ پر سکردو گئیں۔ آمنہ کا بچپن ہوشے گاں میں کوہ پیماں کی گود میں گزرا۔

وہ مشہور کوہ پیما لٹل کریم کی پوتی ہیں جو ماونٹ ایوریسٹ، کے ٹو، نانگا پربت اور براڈ پیک پر کامیاب مہم جوئی کر کے اپنا لوہا منوایا چکے ہیں، ان پر فرانس میں ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی ہے۔

لٹل کریم کی پوتی ہونے کے ناتے کوہ پیمائی کا شوق آمنہ کو ورثے میں اور تربیت گھر میں ملتی رہی۔ آمنہ اپنے دادا کی طرح پہاڑوں کو تسخیر کرکے پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتی تھیں۔ان کی پہلی منزل شمشال وادی میں قراقرم سلسلے کی 6080 میٹر بلند منگلیسر چوٹی تھی جو انھوں نے 2018 میں کامیابی سے سر کرلی۔

اس مہم میں ان کے ساتھ ان کے والد، دادا اور دوکزنز اور چار غیر ملکی کوہ پیما بھی شامل تھے۔ وہ اس وقت صرف 16سال کی تھیں یوں منگلیسر چوٹی کو سر کرنے والی کم عمر لڑکی ہونے کا اعزاز انھوں نے اپنے نام کیا۔ آمنہ کی دوسری منزل سپین کی ٹائی ڈے چوٹی تھی اور یہ کارنامہ انھوں نے اگلے سال 2019 میں انجام دیا۔

2 مئی 2019 کو سپین کی سب سے بلند چوٹی ( 3ہزار7سو18میٹر) ٹائی ڈے کو کامیابی سے سرکیا ، وہاں نہ صرف پاکستان کا پرچم لہرایا بلکہ خوشی میں بلتی گانا بھی گایا۔ اس مہم میں بھی ان کے والد، دادا اور کزن صدیقہ ان کے ساتھ تھیں۔

ان دونوں کم عمر لڑکیوں نے ٹائی ڈے چوٹی سر کرنے والی پاکستان کی پہلی خواتین بننے کا بھی اعزاز حاصل کرلیا۔ اس سے پہلے ٹائی ڈے چوٹی پر کسی بھی پاکستانی خاتون کوہ پیما نے قسمت آزمائی نہیں کی تھی۔ ٹائی ڈے سپین کی بلند ترین چوٹی ہے لیکن یہ سپین کے زیر انتظام اٹلانٹک کے سمندر میں ایک جزیرے پر واقع ہے جو براعظم فریقہ کے قریب ہے۔

آمنہ حنیف کا کہنا ہے کہ اب ان کی منزل دنیا کی بلند ترین چوٹیاں کے ٹو اور مانٹ ایورسٹ ہیں لیکن کوہ پیمائی کے اصولوں کے مطابق وہ ان پر براہ راست نہیں جا سکتیں اس لیے وہ پہلے براڈ پیک اور اسپیٹنک پیک پر جائیں گی ۔ان کا کہنا ہے کہ اب انھیں کچھ بھی مشکل نہیں لگ رہا وہ یہ سب آسانی سے کرسکتی ہیں۔

کوہ پیمائی آمنہ کے لیے آسان سہی مگر اگلی مہم کے لیے اسپانسرشپ حاصل کرنا ان حالات میں بہت مشکل ہوگیا ہے۔ انہیں بھاری رقم کی اسپانسرشپ درکار ہے جو کورونا وائرس سے پھیلنے والی اس معاشی ابتری میں اب ناممکن نظر آتی ہے۔

کرونا وائرس کے باعث مشکلات

پرویز سجاد کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس نے دنیا بھر کی معیشت کے ساتھ ساتھ تعلیم کو بھی داپر لگا دیا ہے۔ دنیا بھر کی طرح ہمارے سکول بھی بند ہیں، بچے گھر پر بیٹھے ہیں مگر ہمارے علاقے کی صورت حال مختلف ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ان پسماندہ گاں میں اتنی سہولیات میسر نہیں ہیں کہ بچوں کو آن لائن تعلیم دی جاسکے۔ ان کے پاس نہ کمپیوٹر ہیں اور نہ سمارٹ فون۔

ٹی وی نہ ہونے کے باعث وہ وزیر اعظم کے جاری کردہ تعلیمی چینل سے استفادہ بھی نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کے ماں باپ اتنے تعلیم یافتہ ہیں کہ وہ گھر پر ان بچوں کو پڑھا سکیں۔

پرویز کا مزید کہنا ہے کہ ’عالمی سطح پر معاشی زوال کی قیمت ہمیں بھی چکانی پڑرہی ہے۔ ہمارے ڈونر ادارے بند ہورہے ہیں یا ان کا جحم کم کیا جارہا ہے۔ ہم سے بھی کہا جارہا ہے کہ آپ اخراجات میں کٹوتی کریں، ٹیچرز کی چھانٹی کریں لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ خطرناک ہوگا، ہماری دس بارہ سالہ محنت پر پانی پھر جائے گا۔

ان کا کہنا تھا ’بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے ہم بڑی مشکل سے مقامی آبادی کا ذہن بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں، ہمار ے ایک غیر محتاط فیصلے سے ہزاروں بچیوں کا مستقبل دا پر لگ جائے گا۔ ہم نے تمام غیر ضروری اخراجات ختم کردیے ہیں اور صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن محسوس ہورہا ہے کہ سب کچھ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

غلام محمد کا کہنا ہے کہ اقرا فنڈ کے زیادہ تر ڈونرز مسلمان اور غیر ملکی ہیں۔ اس لیے ہم ہر سال رمضان کے مہینے میں امریکا میں فنڈ ریزنگ کرتے ہیں اور اچھی خاصی رقم اکھٹی ہوجاتی ہے۔

ہم نے آمنہ حنیف کو بھی اس فنڈ ریزنگ پروگرام میں مدعو کیا تھا تاکہ اسے بھی اگلی مہم کے لیے کوئی سپانسرشپ مل جائے مگر ان حالات میں یہ پروگرام بھی منسوخ کرنا پڑا۔

آمنہ کو بھی ڈر ہے کہ حالات یہی رہے تو کوہ پیمائی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ وہ اور ان جیسی بہت سی لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی رک جائے گا اور یہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
GB NEWS ONE A NETWORK OF GILGIT BALTISTAN

Post a Comment

0 Comments