Weather (state,county)

Media-Solutin.jpg

Breaking News

شمس الدین حسن کی کتاب، ،مذہبی انتہا پسندی ،اسلامی انقلاب و حکومت اور جوابی بیانیہ،


شمس الدین حسن کی کتاب، ،مذہبی انتہا پسندی ،اسلامی انقلاب و حکومت اور جوابی بیانیہ، ،پر مذہبی اسکالر محترمہ فرح سعید صاحبہ کا مقدمہ پیش خدمت ہے ۔
یہ کتاب عکس پبلشر لاہور سے شائع ہوئی ہے ۔
اس نمبر پر رابطہ کر کے یہ کتاب منگوائی جاسکتی ہے ۔
+923042224000
_____________________________________


گذشتہ دو دہائیوں سے مسلم دنیا کے کئی ممالک انتہا پسندی اور دہشتگردی کا شکار ہیں،اور اس میں ملوث لوگوں کا تعلق خود مسلمانوں سے ہے ۔ہمارے ہاں اس پر بہت بحث ہوتی ہے کہ اس انتہا پسندی اور خون خرابے کی اساس و بنیاد کیا ہے ؟اہل علم و دانش اپنے فہم اور سوچ کے مطابق مختلف جوابات پیش کرتے ہیں ۔مگر ان جوابات سے عام لوگوں کے ذہن میں مزید ابہام پیدا ہو جاتا ہے جس کا مشاہدہ ہم اپنے معاشرے میں کرتے ہیں ۔
زیر نظر کتاب میں شمس الدین حسن نے اس ابہام کو دور کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔اس کتاب میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کے بیانیہ کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ان کے دلائل اور استدلال کا تجزیہ نہایت علمی اور غیر متعصبانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔گذشتہ کئی سالوں سے میں خود بھی اس حوالے سے لکھی گئی کتابوں اور مضامین کا مطالعہ کر رہی ہوں ۔اور اپنی استطاعت کے مطابق اس پر کام بھی کر رہی ہوں ۔مگر زیر نظرکتاب مذہبی انتہا پسندی کی بنیادوں کو سمجھنے اور ان کے استدلال کی کمزوری کو طشت از بام کرنے 
میں سنگ میل ثابت ہوگی ۔
محترم مصنف نے گذشتہ ڈیڑھ دو سو سال کے اس پورے لٹریچر کا جائزہ پیش کیا ہے،جس کی وجہ سے پوری دنیا، بالخصوص مسلم دنیا میں اس قسم کی تحریکات اور تنظیمیں وجود میں آئیں جنہوں نے اسلامی انقلاب اور حکومت اسلامی کے قیام کے لئے اسلام کے تصور جہاد وقتال، مسلم حکمرانوں کے خلاف مسئلہ خروج اور قیام امام حسین وغیرہ کو بنیاد بنا کر مسلح جد و جہد کی راہ اپنائی ۔مصنف کے خیال میں اسلام کی یہ سیاسی اور انقلابی تعبیر متقدمین کے ہاں نہیں پائی جاتی ۔ان تنظیموں کا طرز استدلال، دلائل اور اقدامات کی بنیاد اس سیاسی اور انقلابی تعبیر پر قائم ہے جو گذشتہ اور موجودہ صدی کی پیداوار ہے ۔
مصنف نے مسلم فکر میں پائی جانے والی جہاد و قتال کی مختلف تعبیرات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی ہے ۔اس سے قاری کے ذہن سے تمام ابہام دور ہو جاتے ہیں اور تمام فرقوں، مسالک اور شخصیات کے بیانیے کی بنیادیں روز روشن کی واضح ہو جاتی ہیں ۔
مصنف نے ان جدید انقلابی اور سیاسی مفکرین اور مسلح جدوجہد کی حامل تنظیموں کے دلائل کا متقدمین سے موازنہ کر کے انتہائی مفید اور قابل قدر کارنامہ سر انجام دیا ہے ۔اس کتاب میں مسلمانوں کے دونوں بڑے فرقوں یعنی اہل تشیع اور اہلسنت نیز آزاد خیال مفکرین کے نظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ۔خاص طور پر مابعد مودودی و خمینی فکر کا تقابل متقدمین اہل تشیع اور اہلسنت مفسرین کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔
اگر آپ موجودہ مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کی بنیادوں اس کے جوابی بیانیہ کی درست تفہیم کے خواہشمند ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ لازمی کریں ۔اسی طرح اس کتاب کو تعلیمی اداروں میں بطور نصاب شامل کرنے اور مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو مذہبی انتہا پسندی کے عفریت سے بچایا جا سکے ۔
فرح سعید
ڈائریکٹر
ادارہ برائے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی ۔

GB NEWS ONE A NETWORK OF GILGIT BALTISTAN

No comments