سکردو روڈ کا حادثہ بہادر ڈرائیور کو نظر انداز!




لیکن کیوں وہ بھی کیا پاکستانی نہیں تھے؟
انکی بہادری کا کیا کوئی حثیت نہیں تھے؟
قوم کا سوال!
"جس نے ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کوبچائی"
"ڈرائیور علی چو" قوم اپ سے شرمندہ ہے اپ کے جگہ پر کوئی" ٹک ٹاک" ہوتا تو ضرور صدراتی ایوارڈ سے نوازتا ہم لوگ غریب لوگ ہیں اس لئے کسی نے خبر تک نہیں لی "
سنا ہے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اور جنرل احسان محمود صاحب جی بی کے عوام کے ساتھ بہت مخلص ہیں لیکن ان سے گزارش ہے کہ زرا اس غریب ڈرائیور کی کارکردگی پر بھی منظور نظر زرا فرما دیں تاکہ اس غریب کا کچھ حوصلہ افزائی ہو جائے "
چار افراد کا سکردو سے پنڈی روڈ میں خطرناک حادثہ ہوا تھا ہزاروں لوگوں میں سے صرف اس بہادر ڈرائیور نے گہری کھائی سے جو بحفاظت ریسکیو کرنے کا ہمت کیا اور بہادری کے ساتھ چار افراد جوکہ شدید زخمی ہو گئے تھے ان کے بروقت ریسکیو کرنے سے جان بچ گئی تھیں جس پر ضعی انتظامیہ گنگ چھے نے بہترین انسانیت کا ثبوت دینے پر ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا تاہم ابھی تک نہیں مل سکا بلتستان کے عوام نے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ "جس نے ایک جان بچائی تو پوری انسانیت بچائی " لیکن اس بہادر نیٹکو کا ڈرائیور علی چو نے اپنی جان کا پروا کئے بغیر زخمیوں کو نکال لئے اور چار افراد کو جو ں ہی نئی زندگی مل گئ اس بہادری اور کارگردگی پر اسکو فوری صدراتی ایوارڈ جبکہ نیٹکو انتطامیہ اس کا سروس کو ریگولر کیا جائے عوام کا مطالبہ
پیلز جی بی کے عوام سے گزارش ہے ہمارے نمائندے ان سے مخص نہیں ہے اس وجہ سے اب تک ایوارڈ دینے میں دیر ہو گئ لہذا اپ سب اواز اٹھائیں تاکہ ایک غریب ڈرائیور جسکی حوصلہ افزائی ہو صرف فیس بک پر نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی اسکا ساتھ دیں شکرایہ مجھے امید ہے کہ جی بی حکومت اس غریب ڈرائیور کی بہترین کارکردگی پر فوری ایوارڈ کا بندوبست کریں گے شکرایہ خوب شیئر کریں پیلز
GB NEWS ONE A NETWORK OF GILGIT BALTISTAN

Post a Comment

0 Comments