دینا بھر میں مہلک ترین بھگدڑ واقعات پر ایک نظر

حالیہ برسوں میں دنیا بھر بھگدڑ کے مختلف واقعات میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے۔
ان میں زیادہ تر افراد مذہبی تہواروں کے دوران کچل کر مارے گئے۔
یہاں چند ایسے واقعات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے۔

14 جنوری 2001: کیرالہ، انڈیا

بھارت میں ہندوؤں کے مندر سبریمالا سے واپسی پر بھگدڑ مچنے سے 102 یاتری ہلاک ہو گئے۔ یہ مندر دورز دراز پہاڑی علاقے میں گھنے جنگل میں واقع ہے۔

22 نومبر: 2010، پنوم پین، کمبوڈیا

پانی کے سالانہ میلے کے دوران ٹونل سیپ دریا پر واقع پل پر بھگدڑ مچنے سے 375 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ وزیرِ اعظم ہن سین نے اس کو کمبوڈیا کے لیے عظیم سانحہ قرار دیا۔

30 ستمبر 2008: راجھستان، بھارت

جودھ پور میں مہران گڑھ قلعے کے اندر واقع چمندا دیوی کے مندر میں بھگدڑ سے 220 افراد ہلاک ہوئے۔

3 اگست 2008: ہماچل پردیش، بھارت

شمالی بھارت میں ایک پہاڑی کی چوٹی واقع ایک مندر میں بھگدڑ سے کم سے کم 140 افراد ہلاک ہوئے۔ بارش کے بارعث نینا دیوی کے مندر کے راستے میں بارش سے بچاؤ کے لیے لگائی گئی پناہ گاہ گرنے سے ہلچل مچ گئی۔ اس واقعے میں درجنوں دیگر زخمی بھی ہوئے۔

12 جنوری 2006: منیٰ، سعودی عرب

منٰی میں بھگدڑ مچنے سے کم سے کم 364 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق بھگدڑ اس وقت مچی جب جمرات کے مقام پر حاجیوں کے آگے سے گزرنے والے بسوں میں سے ایک میں سے کچھ سامان سامنے آ گرا جس سے افراتفری مچ گئی۔

31 اگست 2005: بغداد عراق

1000 سے زائد شیغہ زائرین خود حملے کی افواہ کے بعد بھگدڑ میں کچلے جانے اور دریائے دجلہ میں ڈوب جانے سے ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل تھے۔


اب تک بھگدڑ کے سب سے زیادہ واقعات بھارت کے مذہبی تہواروں کے دوران پیش آئے ہیں

25 جنوری 2005: مہاراشٹر، بھارت

ایک دور دراز مہندر دیوی کے مندر میں بھگدڑ مچنے سے 300 کے قریب ہندوں یاتری ہلاک ہوگئے۔ پہاڑی کے چوٹی پر واقع مندر کی طرف جانے والے تنگ راستے پر کئی لوگ کچلے جانے سے ہلاک ہوئے اور کئی راستے پر بنے سٹالوں میں لگنے والی آگ پھیلنے سے جھلس کر مارے گئے۔

1 فروری 2004 منٰی سعودی عرب

27 منٹ تک جاری رہنے والے بھگدڑ میں 251 حاجی ہلوئے۔ حکام کے مطابق ماضی میں مچنے والی بھگدڑکے بعد نئے طریقہۂ کار وضح کیے گئے تھے اور مرنے والے زیادہ تر حاجیوں کو اس وقت شیطان کو کنکریاں مارنے کی اجازت نہیں تھی۔

9 مئی 2001: اکرا، گھانا

گھانا کے شہر اکرا کے ایک سٹیڈیم میں میچ کے بعد بھگدڑ سے126 لوگ مارے گئے۔ بچ جانے والوں نے اس بھگدڑ کے لیے پولیس کو موردِ الزام ٹھہرایا، کیونکہ شائقین کے احتجاج پر پولیس نے کھچا کھچ بھرے سٹیڈیم میں آنسو گیس کا استعمال کی تھی۔

9 اپریل 1998: منیٰ سعودی عرب

شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچنے سےکم سے کم 118 عازمینِ حج مارے گئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق انڈونیشیا اور ملائیشیا سے تھا۔

2 جولائی 1990 سعودی عرب

مکہ کے قریب ایک سرنگ میں کم سے کم 1426 لوگ ہلاک ہوئے جن میں اکثریت کا تعلق ایشیائی ممالک سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد سرنگ میں ہوا کی آمد و رفت کے نظام میں خلل کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے