اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو



اے میرے وطن تیز  تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
جانا ہے ہمیں وقت کی رفتار سے آگے
سورج کی کرن ہم سے نہ پہلے کبھی جاگے
قُوت کے اخُوت کے جو مضبوط ہوں دھاگے
ٹوٹے نہ کبھی عزم نہ ہمت کبھی کم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
ہر ہاتھ میں اک شمع ہو اور لَو نہ ہو مدھم
دن رات سفر جاری و ساری رہے پیہم
ہرفرد کو ہو ذات سے یہ ملک مقدم
مٹی جو کبھی مانگے دل و جاں تو بہم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم کہ جس میں کہ دم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
ہر اہلِ وطن چاہے وہ دنیا میں کہیں ہو
ملت کی وہ عزت کا، حمیت کا امیں ہو
اللہ پہ، نبی پہ اُسے ایمان و یقیں ہو
اِس مُلکِ خُدادا پہ مولا کا کرم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
کلام: ریاض الرحمٰن ساغر