قذافی کے حرم کی تصویر'':مقتول لیبی لیڈر کی جنسی کہانی بے نقاب فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والی کتاب کے ایک لاکھ نسخے فروخت ہوگئے


حال ہی میں فرانسیسی صحافی اینک کوجین کی کتاب ''قذافی کے حرم: ایک نوجوان دوشیزہ کی کہانی اور لیبیا میں اقتدار کا غلط استعمال'' منظرعام پر آئی ہے۔ اس کتاب میں لیبیا کے مقتول صدر معمر قذافی کے اسکول کی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
ڈیلی میل میں اتوار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کتاب فرانسیسی زبان میں شائع ہوئی ہے اور اس کے اب تک ایک لاکھ نسخے فروخت ہوچکے ہیں۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی ہوچکا ہے مگر وہ آن لائن ہی خرید کیا جاسکتا ہے۔
مغربی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق اس کتاب میں لیبیا کے سابق مرد آہن معمر قذافی کے رنگین قصے بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں ایک متاثرہ لڑکی ثریا کی یہ کہانی بیان کی گئی ہے کہ اس کو مبینہ طور پر پندرہ سال کی عمر میں اغوا کر لیا گیا تھا اور اس کو دارالحکومت طرابلس کے نواح میں قذافی کے ایک قلعے کے تہ خانے میں پانچ سال تک رکھا گیا تھا۔ کتاب میں اس خاتون کا عرفی نام رکھا گیا ہے تاکہ اس کی شناخت ظاہر نہ ہو۔
اس خاتون کا کہنا ہے کہ ''اس کی وحشیانہ انداز میں آبروریزی کی جاتی تھی۔ اس کو قریباً روزانہ ہی مارا پیٹا جاتا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا''۔ اس کے بہ قول ''اس نے دوسری لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔''
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کوجین کا کہنا ہے کہ قذافی کو ہمیشہ حصار میں لیے رکھنے والی ان کی مشہور زمانہ خواتین باڈی گارڈز دراصل ان کی داشتائیں تھیں۔

اعزاز

ثریا کو اسکول میں دوران تعلیم ایک مرتبہ قذافی کو 2004ء میں گلدستہ پیش کرنے کا ''اعزاز'' حاصل ہوا تھا۔ قذافی نے مبینہ طور پر پھول وصول کرنے کے بعد ثریا کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ان کے معاونین کے لیے اس اشارے کا یہ مطلب تھا کہ وہ اس لڑکی کو چاہتے ہیں۔
ڈیلی میل نے کتاب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کے بعد پھر ثریا کو طرابلس کے نزدیک واقع قذافی کے محل میں طلب کیا گیا تھا اور انھوں نے مبینہ طور پر اس لڑکی کے ساتھ اپنی ہوس پوری کرنے کی کوشش کی تھی۔
کوجین نے اس خاتون کا یہ بیان کتاب میں نقل کیا ہے:''انھوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑ لیا اور مجھے مجبور کیا کہ میں بستر پر ان کے ساتھ بیٹھوں لیکن مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی جرآت نہیں تھی''۔
امریکی اور برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ثریا ان بہت سی خواتین میں سے ایک ہے جس نے قذافی پر اس طرح کے الزامات عاید کیے ہیں لیکن اس طرح کے الزامات لیبیا ایسے ملک میں ایسی عورتوں کے لیے خطرات کا موجب بن سکتے ہیں کیونکہ وہاں شادی کے بغیر جنسی تعلقات ممنوع ہیں۔
واضح رہے کہ مسلم ممالک کے مغرب کے ناپسندیدہ حکمرانوں کے خلاف اس طرح کے سنگین الزامات بالعموم ان کی موت یا اقتدار سے رخصتی کے بعد ہی لگائے جاتے ہیں اور مغربی صحافی بے نامی ذرائع کے حوالے سے اس طرح کی رنگین داستانیں بیان کرتے رہتے ہیں لیکن ان کو کبھی کسی عدالت میں ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ لیبیا کے کسی بےباک صحافی نے مقتول مطلق العنان صدر معمر قذافی کے اس طرح کے قصے ابھی تک بیان نہیں کیے ہیں