خواتین کےبل کی منظوری پر نواز شریف بھی برہم‘


Image captionاجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تحفظ خواتین سے متعلق موجودہ قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے
مذہبی جماعتوں نے پنجاب میں حال ہی میں منظور کیے جانے والے تحفظ نسواں ایکٹ کو فوری طور پر واپس لینے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے مشاورت سے نیا قانون لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ لاہور میں جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر منصورہ میں مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا۔
یہ اجلاس خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ دینے کے لیے منظور کیے جانے والے قانون اور ممتاز قادری کی پھانسی سمیت مخلتف امور پر غور کے لیے بلایا گیا تھا۔
اپنے افتتاحی کلمات میں جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتیں خواتین پر ہر قسم کے تشدد کے خلاف ہیں۔ لیکن پنجاب اسمبلی نے جو بل منظور کیا ہے اس سے معاشرے میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو گا، اور اس بل کے خلاف سب سے پہلے آواز بھی خواتین نے اٹھائی ہے۔
’موجودہ بل تشدد کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ خاندانی نظام کی بربادی کے لیے ہے۔ اس بل سے گھر کی حرمت اور خلوت ختم ہو گی جس کا حق پاکستان کے آئین میں دیا گیا ہے۔‘
سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ ’آئین کا تقاضا ہے کہ ہمارا گھریلو نظام شریعت کے مطابق ہو، حکومت اس کے برعکس کام کر رہی ہے۔ اس بل کو ختم کرنا ہے اور حکومت کو مجبور کرنا ہے کہ اسے واپس لے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم اس قانون پرخود بھی برہم ہیں اور منظوری سے پہلے وہ اس سے لاعلم تھے۔
’وزیراعظم سے اس قانون کے لیے مشاورت نہیں کی گئی۔ انھوں نے شہباز شریف کو کہا کہ اس معاملے پر کم از کم پارٹی کے اندر تو بات چیت ہونی چاہیے تھی جو نہیں کی گئی اور اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اب اس مسئلے کو حل ہونا چاہیے۔‘
Image captionکانفرنس میں نیا قانون لانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مذاکراتی کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا گیا
مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کو بتایا کہ وہ وزیراعظم کی لاعلمی پر حیران ہوئے لیکن انھیں خوشی بھی ہوئی کہ نواز شریف اس معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تحفظ خواتین سے متعلق موجودہ قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ حکومت 27 مارچ سے پہلے نئے قانون کو واپس لے ورنہ 1977 جیسی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ علما سیکیولر اور لبرل نظریات کا مقابلہ مل کر کریں گے۔
اس سلسلے میں دو اپریل کو اسلام آباد میں مذہبی رہنماؤں کی کانفرنس بلائی جائے گی جس میں مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
اعلامیے میں ممتاز قادری کی پھانسی کی بھی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ توہین مذہب کے جرم میں جیلوں میں بند مجرموں کے مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق جلد کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کو مدارس سے جوڑنے کا عمل بند کیا جائے اور مدارس اور مساجد پر لگائی گئی نامناسب پابندیاں ختم کی جائیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کی تمام شقوں پر عمل درآمد کیا جائے۔
کانفرنس میں نیا قانون لانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مذاکراتی کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا گیا۔