الشباب نے طیارے میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی

شدت پسند گروپ نے کہا ہے کہ اُس نے یہ حملہ ''صلیبی جنگ لڑنے والے مغربی ملکوں کے اتحاد اور اُن کے انٹیلی جنس کے اداروں کی جانب سے صومالیہ کے مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کا بدلہ لینے کے لیے کیا تھا'

صومالیہ کے شدت پسند گروہ، الشباب نے اس ماہ کے اوائل میں بم دھماکے کے ذریعے ایک صومالی مسافر طیارہ مار گرانے کی کوشش کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ہفتے کو جاری کردہ ایک بیان میں اس شدت پسند گروپ نے کہا ہے کہ اُس نے یہ حملہ ''صلیبی جنگ لڑنے والے مغربی ملکوں کے اتحاد اور اُن کے انٹیلی جنس کے اداروں کی جانب سے صومالیہ کے مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کا بدلہ لینے کے لیے کیا تھا''۔
الشباب نے کہا ہے کہ دھماکے کا نشانہ مغربی اور ترک انٹیلی جنس اہل کار تھے جو دو فروری کو 'دالو ایئرلائنز' کی پرواز اے 321 میں جبوتی کی جانب سفر پر تھے۔
پرواز کے دوران طیارے میں ہونے والے اس دھماکے کے نتیجے میں جہاز میں ایک میٹر کے قریب سوراخ ہوگیا۔ جہاز میں 74 مسافر  سوار تھے۔ پائلٹ جہاز کو ہنگامی بنیادوں پر نیچے اتارنے میں کامیاب ہوا۔ اس طیارے نے 15 منٹ قبل موغادیشو کے ہوائی اڈے سے پرواز بھری تھی۔
مشتبہ خودکش بم آحملہ آور، عبداللہ عبدالسلام بورلیہ مسافروں میں شامل تھا، اور دھماکے کے ساتھ جہاز کو چیرتا ہوا باہر نکل گیا۔
موغادیشو ہوائی اڈے پر فلمائے گئے سکیورٹی وڈیو فٹ ایج سے پتا چلتا ہے کہ دو افراد نے بورلیہ کو لیپ ٹاپ کمپیوٹر جیسی کوئی چیز تھمائی تھی، جب وہ سکیورٹی چیک پوائنٹ کے مقام سے باہر نکل آیا تھا۔
حکام کے خیال میں لیپ ٹاپ کی شکل میں یہ ایک بم تھا جو دھماکے کا باعث بنا۔
حملے کے سلسلے میں، کم از کم 15 افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔