ادنی سی کاوش آپ کی بصیرت وبصارت کی نذر

ادنی سی کاوش
آپ کی بصیرت وبصارت کی نذر
آنسو بھر آئے سب کی آنکھوں میں
سسکیاں آ رہی ہیں سانسوں میں
لاشیں ہی لاشیں درسگاہوں میں
پھول بکھرے پڑے ہیں باغوں میں
رات بھر رہتے ہیں گناہوں میں
دن گزر جاتے ہیں جنازوں میں!
رہتا ہے وہ مرے سوالوں میں
اور جوابوں میں، استعاروں میں
خط نہیں آیا تیرا مدت سے
وقت کٹتا ہے بس عذابوں میں
تیری آمد کی کیا خبر سن لی
آنکھیں ہم نے بچھا دیں راہوں میں
تم مضامیں میں ڈھونڈتے ہو کیوں!
ہوتے ہیں ہم فقط حوالوں میں
میری بستی اجڑ گئی، اب ہے
درد ہی درد سب کی آہوں میں
منزلیں دیکھتے ہیں ہم اپنی
آسمانوں میں اور ستاروں میں
کیا ضرورت ہے ملنے آنے کی
ملتے رہتے ہیں ہم تو خوابوں میں
درمیاں آس ویاس کے سامیؔ
رہتا ہوں بس ترے خیالوں میں
یاسین سامیؔ یوگوی
ٰ
دیا فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 126
بروز جمعہ، بتاریخ 22 جنوری 2016ء
طرح مصرع:
تو کہاں ہے ترے بغیر اے دوست
چبھ رہے ہیں گلاب آنکھوں میں
شاعر: ناصر برنی
بحر: خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل: فاعلاتن مفاعلن فِعْلن