کوئی خدا کے علاوہ بنانے والا نہیں ````` اٹھانے والا نہیں اور گھٹانے والا نہیں

کوئی خدا کے علاوہ بنانے والا نہیں
اٹھانے والا نہیں اور گھٹانے والا نہیں
مجھے مری وہ جوانی لٹانے والا نہیں
بڑھاپے میں کوئی اپنا بنانے والا نہیں
نہیں ہے دنیا میں کوئی بھی راز دان سنو
کسی کے راز کو دل میں چھپانے والا نہیں
امیروں کو تو سلام وسلام کرتے ہیں سب
غریبوں کو کوئی منھ بھی دکھانے والا نہیں
میں جھیلتا ہی رہوں گا اکیلا جور وجفا
ستم کا قصہ کسی کو سنانے والا نہیں
پرانی رسم بھی توڑی ہے اس نے مجھ سے مگر
میں اس کی ہر ادا ہرگز بھلانے والا نہیں
کرایے پہ دے کے دل سب کو آزمایا میں نے
جہاں میں اب کسی سے دل لگا نے والا نہیں
خدا کے در پہ جو اک بار سر جھکائے گا
کبھی بھی غیر کے در پہ جھکانے والا نہیں
گھروں میں فاقہ کشی کرتے ہیں نہ چاہتے بھی
ہے مرغی، دال، مٹن، پر پکانے والا نہیں!
گلاب وپھول بٹانا ہے شرق وغرب میں بس
کہیں بھی کوئی بھی کانٹے بچھانے والا نہیں
مجھے نہیں رہی حاجت کسی کے آسرے کی
بھٹکتا پھر رہا ہوں، آس پانے والا نہیں
رموزِ شاعری سے گرچہ آشنائی نہیں
جدا ہے فکر وتخیل، چھپانے والا نہیں
ملے گا رزق تجھے تیرے حصے کا سامیؔ
خدا کسی کو بھی بھوکا بٹھا نے والا نہیں
یاسین سامیؔ، کویت
موجِ سخن طرحی فی البدیہہ مشاعرہ 116،
بروز ہفتہ، 9 جنوری 2016ء
طرحی شعر:
اسی لئے تو کسی کو بتانے والا نہیں
کہ تیرا میرا تعلق زمانے والا نہیں
شاعر :عباس تابشؔ
قوافی: زمانے، بتانے، خزانے، دوانے، جتانے وغیرہ، ردیف: والا نہیں
اراکینِ بحر: مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
بحر مجتث مثمن مخبون محذوف