کرپشن کا بازار حسن. ...

 ایک زمانے میں گلگت بلتستان امن کا گہوارہ تھا کرپشن کا نام تک معلوم نہیں تھا مچھر کے پر کے برابر بهی کرپشن نہیں تھا آج کل کرپشن لوٹ مار سفارش رشوت لینے اور دینے جھوٹ فریب دھوکہ دہی حسد ہر لحاظ سے گلگت بلتستان کسی سے پیچھے نہیں ہے ڈاکخانے کے چوکیدار ڈاکیا سے لیکر کلرک تک کرپشن میں ملوث ہیں نام لینے کی ضرورت نہیں ہے حال ہی میں یہ سب کچھ ہوا ہے پولیس کی جانب دیکھا جائے تو پولیس کا محکمہ خاندانی پیشہ سمجھتے ہیں باپ ریٹائرڈ تو بیٹا بھرتی بھائی ریٹائرڈ تو چھوٹا ساجن بھرتی  میرٹ کی کوئی نام ہی نہیں ہے سرے سے ہی میرٹ جانتے ہی نہیں کسی کی جرات ہے کہ وہ خانہ پیشے کے بغیر پولیس میں بھرتی ہو پی ڈبلیو ڈی  ہو یا نادرا آفس فارس ہو یا محکمہ تعلیم ہر جگہ ہر لمحہ ہر قدم پر ہر موڈ پر کرپشن کا بازار گرم آپ ایجوکیشن کی طرف دیکھو تو محکمہ تعلیم میں بهی زیادہ رشوت خوری ہے گلگت بلتستان میں یہ ادارہ بهی خاندانی پیشہ ہے پورا خاندان کے خاندان چوکیدار سے لیکر پرنسپل تک آپس میں گهڑ جوڑ ہے ہر کوئی کرپشن کے غلیظ بدبودار حرام چیزوں میں سو فیصد ملوث ہے قبر عذاب سے غافل ہوکر احکام خداوندی اور صراط مستقیم کا راستہ چھوڑ کر اس فانی دنیا جینے کے خاطر اپنا آپ کو جہنم جانے کا ٹکٹ خرید رہا ہے ون گریڈ سے پانچ گریڈ تک کے لیے اپنا قیمتی زمین فروخت کر کے  رشوت حرام ہے وہ باپ کی جائداد فروخت کر کے گناہ کبیرہ ادا کر رہا ہے رشوت لینا اور دینا دونوں برابر ہیں آج کل کے نوجوان نسل کراچی اسلام آباد لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے گلگت بلتستان کی طرف رخ کرتے ہیں کہ کہیں کوئی اچھا پوسٹ پر بیٹھ کر مظلوم عوام کی خدمت کر سکے نوکری کی جگہ پر اس نوجوان کے ہاتھ میں ٹوکری تهام کر کھیتوں کی طرف رخ کرنے پر مجبور کیوں کہ وہاں پہلے سے موجود بڑے بڑے مگرمچھ نوکری کی تلاش میں آنے والا نوجوان کو ڈرا دھمکا کر واپس بھیج دیتے ہیں  وہ نوجوان جو اپنا پیٹ کاٹ کر بھوک افلاس برداشت کر کے اعلی افسر بننے کے خواب میں اپنا سب کچھ لٹا دیا آخر کار کرپشن کے بازار میں پهس کر رہ گیا افسوس ہائی میرے گلگت بلتستان کے عظیم نوجوانوں افسوس آج  ہماری بے بسی دیکھ کر ہمارے ہی سیاست دان ہمیں پاکستانی ہونے پہ انکار کرتے ہیں .....  تحریر کاچو افضل خپلوی