مریض کی کہانی عام ادمی کی زبانی. .

.. خپلو ضلع گنگچهے کا صدر مقام ہے  غواڑی سے لیکر سیاچن تک پورے علاقے میں ایک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ہے   لوگ علاج معالجہ کے لیے لیے خپلو ہسپتال میں سو روپے کرایہ ادا کر کے آتے ہیں چند میڈل پاس لڑکے ڈاکٹر بن کے اپنے آپ کو ایم بی بی ایس.  پی اتچ ڈی والے ڈاکٹر کے برابر سمجھتے ہیں باپ ایف اے پاس بیٹا میٹرک پاس    مریض ملریا ہو یا کینسر. . پیٹ کی بیماری ہو یا دل کی پاگل ہو یا اندھا زخم ہو یا اندرونی درد ہر ایک کا دوا پیراسٹامول باقی پرچی پر دوا لکھ کر باپ کی میڈیکل سٹور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فلان میڈیکل سٹور میں جاو وہاں آپ کو یہ دوائی ملے گی   ہسپتال کا چوکیدار سے لیکر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تک کرپشن کے غلیظ بدبودار مال میں ملوث سو روپے کا کرایہ ادا کر کے آنے والے مریض آخر کار مایوس ہو کر چلتے جاتے ہیں غربت کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد پولی کلینک    سنٹرل ہسپتال  یا کمپلیکس ہسپتال میں لیکر جانے کے لیے زمین کا ایک ٹکڑا فروخت کرنا پڑتے ہیں ہم گنگچهے کے غیور مظلوم لاچار بےبس غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی عوام چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اینڈ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اینڈ گورنر گلگت بلتستان اینڈ وزیر صحت گلگت بلتستان سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ آپ گنگچهے کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنا بند کریں ورنہ ہم دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے ہم برگیڈ کمانڈر 323 اور فورس کمانڈر شمالی علاقہ جات سے بھی بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ہمارے مسائل پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے ....  .... تحریر کاچو افضل خپلوی