قوس قزح




کتنا ہے بے قرار یہ دل ایک بار دیکھ
بِن تیرے کیسے کٹتے ہیں لیل و نہار دیکھ

جذب و جنون، مستی ہے بے سود اب، مگر
آنکھوں میں اس کی تیرے لئے انتظار دیکھ

رویا کیا بہت غمِ فرقت میں یار کے
رونے کو چھوڑ اور کوئی کاروبار دیکھ

ہے بولتی برہنگی سر چڑھ کے دنیا میں!
شرم و حیا نظر میں بسا کر اے یار دیکھ

خواہش نہیں رہی کوئی تیرے سوا، مگر
آہٹ پہ یہ دھڑکتا دلِ بے قرار دیکھ!

مغموم ہوں، سوائے گناہوں کے کچھ نہیں
نیت مری ہے بس کھری، پروردگار دیکھ!
ٰ
یاسین سامیؔ، کویت