اسرائیل مسجدِ اقصیٰ میں کیمرے لگائے گا، فلسطینیوں کی مخالفت

اسرائیلی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ مسجدِ اقصیٰ کی ویڈیو مانیٹرنگ سے دنیا کو یہ پتا چل سکے گا کہ وہاں کشیدگی کو ہوا کون دے رہا ہے۔


اسرائیل کی حکومت نے اردن کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کی ویڈیو مانیٹرنگ  کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے "اسرائیل کے بہترین مفاد" میں قرار دیا ہے۔
اتوار کو دارالحکومت تل ابیب میں کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں کیمروں کی تنصیب سے فلسطینیوں کے ان دعووں غلط ثابت کرنے میں مدد ملے گی کہ اسرائیلی حکومت وہاں مسلمانوں کی عبادت پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حرم کی ویڈیو مانیٹرنگ سے دنیا کو یہ پتا چل سکے گا کہ وہاں کشیدگی کو ہوا کون دے رہا ہے۔
یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ یہ خدشات ہیں کہ اسرائیلی حکومت حرم الشریف میں عبادت کےلیے فلسطینیوں کے داخلے پر پابندیاں عائد کرنے اور یہودیوں کی وہاں عبادت کے لیے داخلے پر عائد پابندی اٹھانے جارہی ہے۔
کشیدگی کی حالیہ لہر کے دوران اب تک 53 فلسطینی اور نو اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ اسرائیلی فورسز اور فلسطینی مظاہرین کےدرمیان جھڑپیں روز کا معمول ہیں۔
یروشلم کے قدیم علاقے میں واقع حرم کے نواح اور حدود میں کیمروں کی تنصیب کی تجویز ہفتے کو جان کیری اور اردن کے وزیرِ خارجہ ناصر جودہ کی ملاقات کے بعد سامنے آئی تھی۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے کہا تھا کہ اردن اور اسرائیل کی حکومتیں مغربی کنارے میں تشدد کے خاتمے کے لیے بعض اقدامات کرنے پر متفق ہوگئی ہیں جن میں حرم کی ویڈیو مانیٹرنگ بھی شامل ہے۔
سیکریٹری کیری نے علاقے کی صورتِ حال پر نظر رکھنے اور معاملات میں شفافیت  کو یقینی بنانے کے لیے اس تجویز کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں کسی بھی فریق کی جانب سے حرم الشریف کے تقدس کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہوسکے گی۔
لیکن فلسطینی حکام نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک نئی اسرائیلی سازش قرار دیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے وزیرِ خارجہ ریاض المالکی نے اتوار کو ایک فلسطینی ریڈیو سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ اسرائیل کا ارادہ ان کیمروں سے ریکارڈ ہونے والی ویڈیو کے ذریعے وہاں آنے والے فلسطینی عبادت گزاروں کو شناخت کرنے اور بعدازاں انہیں گرفتار کرنے کا ہے جس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔