پردیسی عید


پردیسی احباب کے لئے بطور خاص پیشکش

عید کے دن مرا چہرہ اترا ہوا ہے
ہر جگہ خونِ مـــسلم بہایا ہوا ہے

دل میں بے چینی ہے، سوچ بھی منتشر ہے
مسلمانوں کا گھر گھر ڈھایا ہوا ہے

عید کے روز بھی دل ہے افسردہ میرا
ارضِ اقصیٰ لہو میں نہایا ہوا ہے

عید پردیس میں خاک ہوتی ہے یارو!
اشک آنکھوں میں ہم نے رکایا ہوا ہے

والدیں سے الگ، بال بچوں سے بھی دور
عید کرتے ہوئے، غم چھپایا ہوا ہے

عید آئی مگر، دور ارضِ وطن سے
بے بسی میں نگر دل کا بکھرا ہوا ہے

کاش گھر میں میں ہوتا، سبھی سے میں ملتا
یہ مگر خواب میرا ادھورا ہوا ہے

عید ہر سال پردیس میں ہو رہی ہے
زیست میں اب یہی میرا دکھڑا ہوا ہے

کام پر جانا ہے عید کے دن بھی، لیکن
دل میں اشکوں کا دریا سنبھالا ہوا ہے

عید سب کو مبارک، مبارک، مبارک
اک یہی دل میں ارماں پنپتا ہوا ہے

ہے کٹھن مرحلہ زندگی کا یہ سامیؔ
دور اپنوں سے جو جینا مرنا ہوا ہے

بروز دو شنبہ، 6 اکتوبر 2014ء
بوقت ایک بجے ظہر

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
::::: یاسین سامی کویت :::::::
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::