سنتِ براہیمی،،، قربانی

کالم: روحِ قلم         یاسین سامیؔ (کویت)

                     سنتِ براہیمی،،، قربانی

’’قربانی‘‘ تقوی اور پرہیزگزاری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ایثار ومحبت اور ضبطِ نفس کا درس دیتی ہے۔ انا کو کچل کر دوسروں کے لئے جینے کا گر سکھاتی ہے۔ خواہشاتِ نفسانی کو پسِ پشت ڈال کر فنا فی اللہ ہونے کی استعداد پیدا کرتی ہے۔ صرف خون بہانا اور گوشت تقسیم کرنا قربانی اور تضحیہ کا فلسفہ اور مقصد ہرگز نہیں ہے۔ رب العالمین نے فرمایا: ((لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنْكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ)) الحج: 37۔ آخر میں محسنین کے لئے خصوصی بشارت دی ہے۔
رب کائنات کے ہاں شکل وصورت، مال ومنال کسوٹی نہیں ہے بلکہ دل اور اعمال اصل پیمانہ ہے۔ ارشادِ نبوی ہے: "إن اللّه لا ينظر إلى صوركم ولا إلى أموالكم ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم" الحديث
"قربانی" کلیم اللہ وذبیح اللہ کی درخشاں  وجاوداں سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے۔  ضرورت مندوں، غریبوں، تنگدستوں، یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھنا جہاں اسلام کا حکم ہے وہاں ارکانِ اسلام، شعائرِ دین، اوامر ونواہی، حقوق وواجبات اور مالہُ وما علیہ کی پاسداری بھی بہت ضروری ہے۔
لہذا اسلام ایک عالمگیر دین ہے اس میں ہر چیز کا اپنا صحیح مقام، اہمیت اور افادیت مسلم ومتعین ہے جس سے انکار ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہے۔ اگر اسلام کے رکنِ ثالث زکوٰۃ پر تمام دولتمند ارب پتی مسلمان عمل پیرا ہو جائیں تو دنیا میں کوئی محتاج نہیں رہے گا۔جس کا عملی نمونہ ہم خلیفہ خامس عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور خلافت  (99/101ھ) میں دیکھ چکے ہیں جس پر تاریخ شاہد ہے کوئی اسے جھٹلا نہیں سکتا۔ حالیہ مسلمان ارب پتیوں اور ان کی جائیداد کیK2 جیسی لمبی فہرست پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جائے گی کہ واقعی میں اسلام ضرورت مندوں کا بہت خیال رکھتا ہے اور غریب پروری پر زور دیتا ہے۔ تبھی اس ڈرانے والی رقوم پر زکاۃ فرض کی، جس کی ادائیگی سے ہر مسلمان کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔ مگر بصد حیف کوئی زکاۃ نہیں دیتا۔ اس میں اسلام کا نہیں ہمارا اپنا قصور واضح نظر آتا ہے۔ اللہ المستعان۔
زکاۃ کے بارے میں رحمۃ للعالمین نے حضرت معاذ کو یمن بھیجتے ہوئے باقی احکامات کے ساتھ یہ بھی فرمایا تھا  "أعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم" الحدیث۔یمن والوں کو یہ بھی بتا دیں کہ اللہ تعالی نے ان کے مال میں زکوٰۃ فرض کر دی ہے جو ان کے مالداروں سے لیکر ان کے فقرا ومساکین میں بانٹ دی جائے گی۔ تاکہ یہ مال صرف اغنیا کے ہاتھوں میں ہی متداول  نہ رہے  ((كي لا يكون دولة بين الأغنياء منكم)) الحشر:7۔ بلکہ غریبوں تک پہنچ جائے ، معیشت کا پہیہ جام نہ ہو جائے اور ترقی ہوتی رہے۔ مطلب یہ ہے کہ زکاۃ رب کریم کی طرف سے غریبوں کا مقررہ حق ہے اس کو ادا کرنا فرض ہے لہذا اصحابِ ثروت ومال ومنال کو چاہئے کہ دل کھول کر اسے ادا کریں، منت سماجت کی کوئی گنجائش تک بھی نہیں ہے۔ ہمارے یہاں جب زکاۃ نہیں دی جاتی ہے تو معترضینِ کرام کی لمبی لمبی زبانیں کیوں گنگ رہ جاتی ہیں۔ ان پر صرف پاکستانی اور چائینی نہیں بلکہ جاپانی  اور امریکی Expensive تالے کیوں لگ جاتے ہیں؟!
اسی طرح صدقات کے بارے میں فرامینِ الہی اور فرموداتِ نبوی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر جگہ فقراء ومساکین کو جو اہمیت دینِ اسلام نے دی ہے اس کی مثال ونظیر کسی دوسرے مذہب، معترض وروشن خیال مفکرین اور دانشورں کے ہاں نظر نہیں آتی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تعصب کی عینک کو اتار پھینکیں اور حقائق پر نظر دوڑائیں۔
اب قربانی ہی کو لیں اس میں بھی فقراء اور مساکین کا حصہ مقرر ہے۔ گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنی چاہئے، معاشرے کا وہ طبقہ جنہیں سال بھر میں پیٹ بھر کر گوشت کھانے کا موقع نہیں ملتا صرف خواب دیکھتا رہتا ہے وہ سب سیر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔ الخ،،، معاشی نقطہ نظر سے بھی پرکھا جائے تو اس کے بہت سے مثبت اثرات نظر آئیں گے۔
اگر قربانی کے پیسے کسی غریب کو دیا جائے تو چند ہی دن میں ختم ہو جائے گا پھر وہی غربت در ودیوار پر سر کھولے بیٹھے رہے گی، انہیں معاشی استحایم کی ضرورت ہے جو معیشت کے پہیہ چلانے سےحاصل  ہو گا، قربانی اس کا بہترین ذریعہ ہے۔
اس سے معاشی نمو حاصل ہو گی کیونکہ مال مویشی پالنے والے غریبوں کو اچھا مول مل جائے گا جو عام مارکیٹ میں نہیں ملتا۔
جانوروں کی کھالوں سے لیدر پراڈکٹس میں اضافہ ہو گا جس سے تجارت میں خاطر خواہ نمو آئے گی۔ بہت سے لوگوں کا روزگار قربانی جانوروں سے منسلک ہے،،، بات بہت لمبی ہو جائے گی،،، المختصر عیدِ قربان کے دنوں میں معیشت کا پہیہ بہت تیزی سے چلنے لگتا ہے۔
قاریئنِ کرام! قربانی جو بذاتِ خود ایک عبادت ہے صرف اس پر ہی اعتراض آخر چہ معنی دارد؟!
کبھی مسلمان امیروں کی عیاشیوں پر انگلیاں کیوں نہیں اٹھتیں جن میں اربوں  Dollars ’’قربان ‘‘کئے جاتے ہیں؟!
قوم خزانہ لوٹ کر فضول خرچی کی انتہا کرنے والے حکمران، اشرافیہ اور  سیاستدانوں کی رنگ رلیوں پر سوالیہ نشان کیوں نہیں اٹھتا؟!
قلم وحرف بیچ کر گرین صحافت کے میدان کے شہسواروں کی کرتوتوں پر آواز کیوں نہیں اٹھتی ہے؟!
ان عورتوں اور میموں کے Salons, Beauty Parlors, Fashions, Cosmetics  ودیگرغیر ضروریActivities  پر دریا دلی سے بہا دیئے جانے والی خطیر اور بے حساب رقوم پر لب کیوں سلے رہتے ہیں؟!
کھیل تماشہ، مختلف مقابلوں پر کھربوں Euros  خرچنا عیاش طبقے کی سرشت بن چکی ہے، اس وقت  آنکھوں پر دبیز پردے کیوں پڑے رہتے ہیں؟!
پارٹیوں، عیاشیوں، نائٹ کلبوں، کتوں، بلیوں،  Pets پر خرچ کرنا  Pretty Luxury Life  کہلاتی ہے ، کیوں؟!
استعجاب واستغراب سے لبریز بہت سے سوالیہ  نشانات ہیں، جن کا ان خود ساختہ دانشمندوں اور دانشوروں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اول فول ہی بکنا ان کا پیشہ ہے۔ آخر ان بے چاروں کو پردہ، داڑھی، شادی، مرتد، زانی اور لوطی کے احکام، سود، قربانی اور دیگر اسلامی احکامات پر اعتراضات اور شکوک وشبہات پھیلانے سے فرصت ملے تو ناں۔۔۔ لیکن یہ الجھتے ہی رہیں گے الجھنا ہی ان کا کام ہے۔ اللہ سلجھنے، سدھرنے اور سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔
مگر افسوس جب اللہ کے دئیے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں اسی کے حکم پر سنتِ براہیمی کو زندہ کرتے ہوئے ’’قربانی‘‘ پیش کر کےمہنگا ترین  کاروبار "ألا إن سلعة الله غالية" کا لقب حاصل کرنے کا موقع آتا ہے تب ہی میرے دانشور اور مفکر حضرات کا ایمان ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے اور  ببانگ دہل’’ کیوں کیوں اور کیوں ‘‘ کا ڈھنڈورا چار دانگ پیٹنے لگتا ہے۔  Pointless & Illogical شکوک وشبہات اور اعتراضات کرنا ان کا طرہء امتیاز کیوں ٹھہرتا ہے یہ میرا خدا جانے۔ شاید یہ ان کی انا اور ضد کا مسئلہ ہے جو حق دیکھنے، پڑھنے، سننے اور پرچار کرنے سے روکتی ہے۔ صرف غیر معقول ومنقول اعتراض ان کا مقدر بن کر رہ جاتا ہے۔ بقولِ سامیؔ:
عید آئی ہے
ہمیشہ عید پر
قربان کرتے آئے ہیں ہم
بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے
آؤ اب کی بار اس عیدِ بقر پر
جذبہء ایثار سے سرشار  ہو کر
اپنی اپنی ہم انا قربان کر دیں
اور ضد بھی اپنی ہم قربان کر دیں
ساتھ اس کے ہم
جنازہ بھی اٹھائیں
اب انانیت کا بھی
لو عید آئی
معترضین سے  دلی درخواست ہے کہ خوفِ خدا دلوں میں پیدا کریں اور یہ  جان لیں کہ اسلام کا پہلا نعرہ محمد عربی ﷺ نے بلند کیا تھا اس کے خلاف پہلا تھپڑ ابو لہب نے مارا تھا فرق یہ ہوا کہ  احمد مرسل ﷺ کو (( الیوم أكملت لكم دينكم )) کا ٹائٹل ملا اور ابو لہب کو (( تبت يدا أبي لهب ))  کا ایوارڈ ملا۔ بعد المشرقين کا فرق واضح ہے۔ بو لہب مٹ گیا اسلام پوری تاب وآب کے ساتھ آج بھی  زندہ  ہے اور ہوتی دنیا تک رہے گا۔ یہ آپ کی مرضی محمدی بنیں یا بو لہبی۔
ہمارے معاشرے میں نا ہمواریاں، محرومیاں، نشیب وفراز دیکھیں تو سمجھ لیں کہ یہ میری اور آپ کی یعنی ہماری اجتماعی غلطیوں کا خمیازہ اور پیداوار ہے اس میں مذہب کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہم صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے تبھی یہ منفی اثرات شعبہائے زندگی پر مرتب ہوئے ہیں۔ محرومی کا خاتمہ ’’قربانی‘‘ قربان  کرنے سے نہیں ایثار وقربانی اور بے لوثی کے پاک جذبہ سے موجزن ہو کر اسراف وفضول خرچی کو روک کر اپنے واجبات وفرائض نبھا کر کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کو ہماری نہیں ہمیں اسلام کی ضرورت ہے۔ آپ اپنی فکر، عقل، قلم وقرطاس کو اسلام کی خدمت میں استعمال کریں رب رحیم دارین میں سرخرو کر دے گا بصورتِ دیگر کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ عید الاضحی کے اس پر مسرت وفرحت موقعِ اطہر پر تمام مسلمانوں کو دلی عید مبارک ہو۔ دگرگوں مشکلات سے دوچار اپنے مسلمان بھائیوں کو اپنی خصوصی دعاؤں اور عید کی خوشیوں میں ضرور یاد رکھیں۔
لفظِ آخر: منی میں عید الاضحی  24/9/2015 کے دن المناک دلوں کو دہلا دینے والا واقعہ رونما ہوا، جس میں اب تک کی اطلاع کے مطابق 717 سے زائد حجاج کرام ضیوف الرحمن اللہ تعالی کو پیارے ہو گئے اور 863 کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔
مجھے 2004 کا واقعہ یاد آ رہا ہے کہ جب ہم جمرات کے پاس ہی پہچے تھے عین اسی وقت اس نوعیت کا حادثہ پیش آیا تھا جس میں 350 سے زائد حجاج کرام وفات پائے تھے۔ اللہ تعالی وفات پانے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، زخمیوں کو شفائے عاجلہ وکاملہ عطا کرے، ان کے اہل وعیال کو صبرِ جمیل کی توفیق دے۔ آمین۔

24/9/2015