"گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں اور وزیر اعلی کی زمہ داریاں"


تحریر:شبیر احمد غنی
    ہر سال گرمیوں کی سیزن کیساته  ملک پاکستان  کے باسیوں کےلئے سیلابی ریلے  اور دریائی طغیانی  کا تحفئہ خاص بھی ساتھ لیکر آتے ہیں .ایک طرف شدید گرمی ساتھ بجلی کی بھی طویل لوڈشیڈنگ  دوسری  طرف تباہ  کن سیلابی  ریلے  اور طغیانی سے مال مویشیاں  کھیت کھلیاں  اور لاتعداد پھل دار  اور غیر پھل دار درختوں  کو بھی تباہ و برباد  کررہے ہیں.!
یہ  بات حقیقت  پر مبنی ہے  کہ سیلاب اللہ کی طرف سے ہمارے اوپر ایک امتحان اور ہمارے  اعمال بد کا نتیجہ ہے. لیکن تصویر کے دوسرے رخ دیکھیں تو اللہ   اور اسکے رسول اور اسلامی تعلیمات  نے کب حکم دیا ہے کہ خواب خرگوش  کی طرح ہر  مصیبت کا انتظار کی جائے...اللہ تبارک  وتعالى  نے ہر  چیز کا ایک دوسرا پہلو بهی رکها ہے عقلمند لوگ اس پہلو کو بروئے کار لاکر کامیابی کا سامان پیدا کرتے ہیں ملک پاکستان  کے اکثر میدانی اور پہاڑی علاقے میں ہر  سال گرمیوں کیساته سیلابی ریلے اور دریائی طغیانی اب معمول  ہوگیا  ہے  اس چیز کا تجربہ  ہمارے  گورنمنٹ  کو بھی ہے  پھر بھی بروقت نقصانات  کو روکنے کےلئے اقدام کیوں نہیں کرتے..؟؟یہ  اہم  سوال ہے  کاش ہمارے  صاحب اقتداروں کی نظر پہلے ہی  اس اہم  مسائل پڑتے جب پانی سر سے گزر جائے اور سارے مال متاع اور قیمتی جان تک بھی سیلابی ریلے کی نزر  ہوجائے  تو ہماری  صاحب اقتدار اور حکام بالا  کی آنکھ کھل جاتی ہے  اور پہلی فرصت میں لوگوں کی آنکھوں میں دھول  جھونکنے کےلئے متاثرہ  جگہوں پہ  جاکر فوٹو سیشن  کرتے ہیں  تاکہ  عوام کے علم میں آئے  فلاں جماعت یا ادارہ سب سے پہلا متاثرہ  علاقوں  میں پہنچا ہوا  ہے.جب متاثرین  کی گھر املاک اور قیمتی جان سیلاب ہضم کرلیں  پھرمیڈیا  اور پرنٹ میڈیا  کی زینت کےلئے صرف نام کے ہمدردانہ  فوٹوسیشن کا کیا فائدہ الٹا انکے زخم پر نمک چھڑکنے  کے برابر  ہے . ہاں! یہ بات بھی مزہ  کی ہے  متاثرین کے ساتھ فوٹوسیشن اور بلند بانگ دعوے کیساته ان  پر عملی اقدام بھی کرے.لیکن بدقسمتی  سے ہمارے  ہر  صاحب اقتدار کو اپنے وعدے وعید اور اعلان جلد ہی  بھولنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا حالیہ پاکستان  کے سیلابی  تباہ کاریوں  سے صرف گلگت بلتستان  کے چالیس جگہے  متاثر ہوئے ہیں ملک دیگر علاقوں کی نقصانات  کی بحث  چهوڑدیں  راقم کو بھی بلتستان  کے متاثرہ  علاقہ  بلغار گانگچهے  جانا ہوا  تو وہاں کی نقصانات  اور بے چارے متاثرین کی پریشانیاں  سن کر رب کے حضور دعاگو رہا مجھے وہاں صرف فلاح انسانیت  فاؤنڈیشن  کے رضارکار  متاثرین کی خدمت میں پیش پیش نظر آیا جو حتی المقدور متاثرین کی خدمت کررہے  تھے اور پکا پکایا کهانا تک بهی تقسیم کررہے تهے ورنہ  انسانیت کے فلاح اور بہبود کے نام سے اور بھی  کئی  تنظیمیں ہیں.وزیر اعلی گلگت  بلتستان  جناب حفیظ  الرحمن  صاحب نے بهی اپنے قلمدان سنبهالنے کے بعد بلتستان   کے متاثرہ  علاقوں  کا  پہلا دورہ کیا ہے انکے بعد وزیر اعظم صاحب نے بھی گلگت بلتستان  کا دورہ کیا ہے   اور متاثرین سے اظہار  ہمدردی  اور ساتھ ہی  فوری ریلیف پہنچانے کا بھی اعلان کیا ہے  وزیر اعلی کو چاہیے  کہ  صرف زبانی وعدہ وعید سے ہٹ کر فوری متاثرین تک ریلیف  پہنچائیں  اگر آج کی اس مشکل کی گھڑی  میں آپ اور آپکی جماعت عوام کے زخم پر  مرہم  کریں گے       تو آنے والے الیکشن  میں بھی عوام آپ کو اور آپکی جماعت کی اس احسان کو بھی  یاد رکھے گا.سابق وزیر  اعلی مہدی  شاہ اور انکی سابق حکومت آپ کےلئے اور آپکی جماعت کےلئے  نوشتئہ  دیوار  ہے انکی حکومت پر آپ طائرانہ  نظر دوڑائیں  انکو اور انکی حکومت کو حالیہ  اس الیکشن  میں عوام نے  کیوں  مسترد کیا یقینا اس کا جواب مجھ سے زیادہ آپ کو ہوگا.اس الیکشن میں عوام نے آپ کو اور آپکی جماعت پر اعتماد کرکے اپنی قیمتی ووٹ سے آپکے امیدواروں کو جتوایا  ہے  تو آپ کا بھی فرض ہے  کہ  قوم کی اعتماد پر ٹھیس نہ پہنچائیں  مشکل کی اس گھڑی  میں عوام کیساته کئے گئے خدمت کو ان شاءاللہ  عوام بھی یاد رکھیں گے.!