Search This Blog

ویب سائٹ برائے فروخت ہے

ویب سائٹ برائے فروخت ہے
ملین ویزیٹرز اور تمام سوشل میڈیا پروفائل اور پیچ کے ساتھ

GB

GB

Shigar

Shigar

Churkah

Churkah

رمضانُ المبارک کے اَحکام ومسائل ( قیام اللیل )



 قیام اللیل کا لغوی اور شرعی معنی

قیام اللیل کا لغوی معنی رات کے وقت کھڑاہونا ہے اور شرعی معنی 
نمازِ عشا کے بعد سے لیکر طلوعِ فجر کے دوران نفلی نماز کاادا کرنا ۔ قیام اللیل کو کتاب و سنت اورکتب ِفقہ میں ان ناموں سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے :
۱۔ تراویح: جو کہ رمضان میں نمازِ تہجد کا دوسرا نام ہے۔
۲۔ تہجد: جو رمضان یا غیر رمضان میں بوقت ِشب سات تا گیارہ یا تیرہ رکعت تک پڑھی جاتی ہے۔
۳۔ وِتر: نماز وِتر کا اطلاق کبھی قیام اللیل کے علاوہ اس نماز پربھی ہوتا ہے جو ایک یا تین یا پانچ رکعتوں کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔

قیام اللیل کی مشروعیت و فضیلت

رمضان میں قیام اللیل یعنی رات کا قیام مستحب ہے چنانچہ آنحضرت سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رمضان کے دن کے روزے فرض اور اس کی راتوں کا قیام نفل ٹھہرایا ہے“ (بیہقی شعب الایمان از سلمان فارسیمرفوعاً) … اور اس کی فضیلت میں امام الانبیاء کا یہ بھی فرمان ہے :
جوشخص اللہ تعالیٰ پرایمان اور اس سے اجروثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان کی راتوں کا قیام کرے، اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ از ابوہریرہ)

باجماعت قیام کی مشروعیت

رمضان کی راتوں میں قیام باجماعت سنت ہے اور فرداً فرداً قیام سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ نبی اکرم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں رمضان کی ۲۳ ویں، ۲۵ویں اور ۲۷ ویں رات باجماعت قیام(۱۱) فرمایا اور اسے صرف اس لئے چھوڑا کہ کہیں فرض(۱۲) نہ ہوجائے۔اور جب بوجہ وفات نزولِ وحی کی بندش کی وجہ سے فرضیت کا خطرہ ٹل گیا تو پھر قیام باجماعت کا دوبارہ احیاء و اجراء(۱۳) عین منشا رسول تھا۔

عورتوں کے لئے قیام باجماعت

حضرت ابوذرکی طویل روایت میں آنحضرت کے ساتھ ستائیسویں شب عورتوں کا قیام بھی ثابت ہے بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ عورتوں کے لئے کوئی الگ امام بھی مقرر کردیا جائے جیسا کہ حضرت عمر فاروقنے صرف عورتوں کے لئے سلیمان بن ابی حثمہ اور حضرت علی (نے عرفجہ ثقفی کو مقرر فرمایا تھا ۔
نوٹ: عورتوں کے لئے جداامام کا تقرر تب ہوسکتا ہے جبکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور نہ ہی دونوں اماموں کی آواز باہم ٹکرائے۔
رکعاتِ قیام کی مسنون تعداد:رمضان میں قیام اللیل یعنی نمازِ تراویح کی رکعات کی مسنون تعداد گیارہ تک ہے چنانچہ بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ صدیقہسے مروی ہے
ما کان رسول الله  يزيد فی رمضان ولا فی غيره علی إحدي عشرة رکعة 
آپ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ قیام نہ فرماتے
ایک استفسار اور اس کا جواب:اگر کوئی شخص یہ کہے کہ آپ کی پیش کردہ حدیث عائشہسے تو یہ ثابت ہوا کہ آنحضرت نمازِ تہجد یا تراویح گیارہ رکعت سے زائد نہ پڑھتے تھے حالانکہ بعض صحیح روایات میں تیرہ رکعت (۱۵)کاذکر موجود ہے تو اس کا جواب کئی انداز سے دیا گیا ہے:
۱۔ حضرت عائشہ صدیقہکی مذکورہ روایت میں گیارہ کاذکر اغلبیت کی بنیاد پر ہے۔ ورنہ بعض اوقات بصورتِ نادر آپ سے تیرہ اور پندرہ کا بھی ذکر ہے۔
۲۔ نمازِ عشاء کے بعد دو رکعت کو نمازِ تہجد میں شمارکرلیا گیا ہے۔
۳۔ تہجد سے پہلے دو ہلکی پھلکی رکعت کو بھی شمار کیا گیا ہے۔
۴۔ صبح کی دو رکعت کو شمار کیا ہے چنانچہ اس کی صراحت صحیح مسلم کی روایت میں حضرت عائشہسے موجود ہے: فقالت کانت صلاته فی شهر رمضان وغيره ثلاث عشرة رکعة بالليل منها رکعتا الفجر
آپ فرماتی ہیں کہ آنحضرت کی رمضان اور غیر رمضان میں نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی اور ان میں سے صبح کی دو رکعت بھی شامل تھیں
نوٹ: حضرت عائشہکی مذکورہ گیارہ رکعت والی روایت میں یہ بھی ارشاد ملتا ہے کہ آپ گیارہ سے زائد تو نہیں البتہ کم بھی پڑھتے تھے چنانچہ بعض روایات میں سات اور نو کا بھی ذکر ہے مگر بیس رکعت نماز تراویح کا ثبوت کسی مرفوع اور صحیح روایت میں نہیں بلکہ متعدد حنفی علماء اس امرکی تصدیق کرچکے ہیں۔ البتہ حضرت عمرکی طرف منسوب کردہ وہ روایت جس میں بیس رکعت کا ذکر ہے، کئی وجہ سے قابل استدلال اور عمل نہیں مثلاً
۱۔ وہ روایت شاذ ہے یعنی اکثر ثقہ راویوں نے اس روایت کے ضعیف راوی کے اُلٹ بیان کیا ہے۔
۲۔ شاذ ہونے کے ساتھ ساتھ ضعیف بھی ہے۔
۳۔ اگر بالفرض اس کی صحت تسلیم بھی کرلی جائے تو بھی اس قابل نہیں کہ اسے رسول عربی علیہ الصلوٰة والسلام کی سنت ِصحیحہ ثابتہ کے مقابلہ میں لاکھڑا کردیا جائے۔ بلکہ یہ حضورِ اقدس کی توہین کے مترادف ہے۔
۴۔ حضرت عمرکی طرف منسوب کردہ مذکورہ روایت کے برعکس آپ سے یہ روایت بھی (۲۰)موجود ہے کہ سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عمرنے اُبی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعت پڑھانے کا حکم فرمایا۔
الغرض حضرت عائشہ صدیقہکی مذکورہ ناقابل تردید و انکار روایت کی بنا پر بعض محقق حنفی علما یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ سنت تراویح صرف گیارہ رکعت ہیں اور اس سے زائد تعداد کاسنت ہوناثابت نہیں۔چنانچہ شیخ ابن ہمام جو حنفیہ میں بڑے پائے کے بزرگ اہل علم گزرے ہیں، شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں
فحصل من هذا أن قيام رمضان سنة إحدي عشرة رکعة بالوتر في جماعة فعله عليه السلام(۲۱)
اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ رمضان کا مسنون قیام وتر سمیت گیارہ رکعت ہے اور اسے آنحضرت نے باجماعت بھی ادا فرمایا ہے

قیام باجماعت کا حکم
قیام باجماعت اکیلے قیام کرنے سے افضل ہے۔چنانچہ حضرت عمرکا تمام لوگوں کو مقرر کردہ ائمہ، قراء کی اقتدا میں باجماعت قیام کا حکم دینا اس کی افضلیت کی واضح دلیل ہے۔

قیام کے آداب
قراء ت: 
(الف) نبی سے رمضان اور غیر رمضان میں قیام کی قراء ت کے بارے میں کوئی ایسی مقررہ حد ثابت نہیں کہ جس سے کمی و بیشی نہ ہوسکتی ہوبلکہ آپ کبھی لمبا قیام فرماتے اور کبھی چھوٹا 
(ب) اگر کوئی شخص امام ہو تو اسے نماز میں تخفیف کرنی چاہئے۔ اکیلا ہونے کی صورت میں حسب ِمنشا قرا ء ت لمبی کرسکتا ہے۔ (متفق علیہ از ابوہریرہ)
(ج) اگر مقتدی امام کی قرا ء ت میں لمبی نماز کوپسند کریں تو جائز ہے۔
(د) کوئی شخص خواہ امام ہو یا مقتدی، اپنی نفلی نماز اتنی لمبی نہ کرے کہ صبح کی نماز فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو یاپھر دن کی خیروبرکات سے محرومی لازم آئے۔
البتہ کبھی کبھی پوری رات کا قیام بھی جائز ہے جیسا کہ آنحضرت کی عادتِ مبارکہ تھی۔
۲۔ حسن و طول: قیام اللیل کو لمبا اور اچھے طریقہ سے ادا کرنا مستحب ہے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہآنحضرت کے قیام کے حسن و طول کو بیان فرماتی ہیں۔ (متفق علیہ از عائشہ)
۳۔ وقت قیام
(ا) نمازِ عشا کے مابعد سے لے کر طلوعِ فجر تک قیام کا وقت ہے۔ (احمد وغیرہ از ابی بصرہ مرفوعاً بسند صحیح)
(ب) رات کے آخری حصہ میں قیام افضل ہے۔ (مسلم وغیرہ مرفوعاً)
(۳) صلوٰة ِوتر
آپ گذشتہ صفحات میں یہ معلوم کرچکے ہیں کہ صلوٰةِ وتر کا اطلاق کبھی پوری نمازِ تہجد پر جو کہ سات تا گیارہ یاتیرہ رکعت ہے او رکبھی ایک یا تین یا پانچ رکعت پر ہوتا ہے اور یہاں یہی مراد ہے۔
Share on Google Plus

About GB NEWS ONE

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.