رمضانُ المبارک کے اَحکام ومسائل ( لیلۃ القدر )



لیلۃ القدرکا تعین

لیلۃ القدر (شب ِقدر) کے تعین کے بارے میں علماء سے متعدد اَقوال منقول ہیں۔ چنانچہ ابن حجرنے فتح الباری میں پینتالیس اَقوال ذکر کئے ہیں اور ان میں سے راجح ترین قول یہ ہے کہ لیلۃ القدر آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک ہے۔ (بخاری از عائشہ مرفوعا/ مسلم از ابن عمر مرفوعاً)
مگر بعض اہل علم نے روایات کی کثرت کی بنا پر ستائیسویں رات کا تعین کیا ہے۔ (مسلم ، ابو داود، ترمذی از ابی بن کعب مرفوعا، … ابوداود از معاویہ بن سفیان مرفوعا،… احمد از ابن عباس، ابن عمرو ابن کعب مرفوعاً)

لیلۃ القدرکی علامات

۱۔ رات کے وقت آسمان کا ابرآلودنہ ہونا، روشن اور صاف ہوناگویا کہ چاند کی چاندنی ہے۔
۲۔ فضا کا پرسکون ہونا۔
۳۔ موسم کا معتدل ہونا۔
۴۔ رات کے وقت فرشتوں کا زمین پر سنگریزوں سے بھی زیادہ کثرت سے ہونا۔
۵۔ صبح کے وقت سورج کا شعاعوں کے بغیر طلوع ہونا۔
۶۔ سورج کا طشت کی طرح ہونا۔
۷۔ شیطان کاطلوع کے وقت سورج سے دور ہونا۔
۸۔ رات کو ستارے کا نہ ٹوٹنا وغیرہ وغیرہ (احمدازعبادہ بسند صحیح، مجمع الزوائد… احمد، ترمذی، مسلم، ابوداؤد از ابی بن کعب)

لیلۃ القدرکی دعا
اللّٰهُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ از عائشہ مرفوعاً بسندصحیح)
اے اللہ تو معاف کرنے والاہے، معافی کو پسند کرتا ہے، مجھے معاف فرما دے