Search This Blog

ویب سائٹ برائے فروخت ہے

ویب سائٹ برائے فروخت ہے
ملین ویزیٹرز اور تمام سوشل میڈیا پروفائل اور پیچ کے ساتھ

GB

GB

Shigar

Shigar

Churkah

Churkah

-رمضانُ المبارک کے اَحکام ومسائل ( احکام وتر )


نماز وتر کا حکم اور رکعات کی تعداد

حضرت ابوایوبروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا
وتر ہر مسلمان پر لازم ہے۔ پس جو شخص پانچ رکعت پڑھنا پسندکرے پانچ پڑھ لے، جو تین تو تین اور جو ایک تو ایک پڑھ لے (ابوداؤد، نسائی(۲۴)، ابن ماجہ)
جمہور علماءِ امت کے نزدیک نمازِ وتر سنت موٴکدہ(
۲۵) ہے۔

تین یا پانچ وتر پڑھنے کاطریقہ

تین یا پانچ وتر پڑھنے کے دو طریقے ہیں:
۱۔ ایک ہی تشہد اور سلام سے ادا کرنا۔
۲۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا اور پھر آخری رکعت کو الگ پڑھنا اور یہ افضل ہے ۔
مگر تین رکعت وِتر اکٹھے ادا کرتے وقت یہ شرط ہے کہ دوسری رکعت پرتشہد نہ بیٹھے ورنہ نماز مغرب سے مشابہت لازم آئے گی اور یہ شرعاً ممنوع ہے۔ 

آداب ِوتر
قراء ت:
(الف) اگر ایک یا پانچ رکعت وتر ادا کرنا ہو تو اس میں رسول اللہ سے کوئی مخصوص قراء ت اور اس کی مقررہ حد ثابت نہیں ، البتہ اگر تین رکعت ادا کرنے ہوں تو اس میں زیادہ ترآپ کی سنت مطہرہ یہ تھی کہ پہلی رکعت میںسبح اسم ربک الاعلیٰ، دوسری میں قل يٰأيها الکافرون اور تیسری میں قل هوالله أحد پڑھتے۔(۱۔ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن ابی شیبہ از ابن عباس مرفوعاً بسند صحیح… ۲۔ احمد، ابوداود، نسائی، ابن ماجہ از ابی بن کعب مرفوعاً بسندصحیح)
(ب) اس کے علاوہ کبھی کبھی آپ ا تیسری رکعت میں معوذ تین بھی ملا لیتے۔ (ترمذی، ابوداود از عائشہ بواسطہ ابن جریج بسند ضعیف وبواسطہ عمرة بسند صالح
اکثر علماء تیسری رکعت میں صرف قل هو الله أحد پڑھنے کے قائل ہیں کیونکہ ابن عباس اور ابی ابن کعب کی روایت میں جو کہ زیادہ صحیح ہے، معوذتین کاذکر نہیں۔
(ج) آپ سے ایک دفعہ تیسری رکعت میں سورة نساء کی سو آیات پڑھنا بھی ثابت ہے (نسائی، احمد بسند صحیح)

قنوت کا شرعی معنی 
لفظ قنوت گو متعدد معانی کے لئے مستعمل ہے مگر یہاں نماز میں قیام کے کسی مخصوص مقام پر دعا کرنامراد ہے۔(فتح الباری)

قنوت کی دو اقسام
(
۱) قنوتِ نازلہ:کسی مصیبت، جنگ یا حادثہ کے وقت دشمن کے خلاف یا مسلمان کے حق میں پنج وقتہ(۳۰) نماز یا کسی (۳۱)ایک نماز میں رکوع سے پہلے یا بعد دعا مانگنا ہے۔
نوٹ: حضرت انسسے قنوتِ نازلہ کے مقام و محل کے بارے میں تین طرح کی روایات ثابت ہیں: (
۱) قبل الرکوع (۲) بعد الرکوع (۳) قبل الرکوع و بعد الرکوع
علماء/ محققین کے نزدیک گو رکوع سے قبل اور بعد ہر دو طرحجائز ہے۔ مگر بعد از رکوع اولیٰ اور اقویٰ ہے۔

قنوتِ نازلہ کاطریقہ
رکوع کے بعد اللهم ربنا لک الحمد پڑھ کر بآوازِ بلند دعاءِ قنوت پڑھے، دونوں ہاتھوں کودعا کے لئے اٹھالے اور مقتدی صرف آمین کہیں۔
دعا سے فراغت کے بعد اللہ اکبر کہہ کرسجدہ میں چلا جائے۔
نیزیاد رہے کہ آنحضرت
نے قنوتِ نازلہ پر دوام نہیں فرمایا۔

دعاءِ قنوتِ نازلہ
اَللّٰهمَّ قَاتِلِ الْکَفَرَةَ الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِکَ وَيُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَلاَيُوٴْمِنُوْنَ بِوَعْدِکَ وَخَالِفْ بَيْنَ کَلِمَتِهِمْ وَاَلْقِ فِیْ قُلُوْبِهِمْ الرُّعْبَ وَ اَلْقِ عَلَيْهِمْ رِجْزَکَ وَعَذَابَکَ اِلٰه الْحَقِّ ”اے اللہ، کفار کو ہلاک فرما، جو تیرے راستے میں نکلنے سے روکتے ہیں، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں او رتیرے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے۔ اے اللہ ان کی جمعیت میں تفریق اور ان کے دلوں میں خوف ڈال دے، ان پر اپنا غصہ او راپنا عذاب نازل فرما ، یا اللہ، سچے معبود!“ 

دعا ءِ مذکورہ کے بعد:
(
۱) درودہ شریف پڑھ لے
(
۲) مسلمان کے لئے دعا خیر کرے
(
۳) موٴمنوں کے لئے دعائے مغفرت کرے
(
۴) اور درج ذیل دعا پڑھے 
اِللّٰهُمَّ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّيْ وَنَسْجُدُ وَإِلَيْکَ نَسْعَیٰ وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ رَبَّنَا وَنَخَافُ عَذَابَکَ إِنَّ عَذَابَکَ لَمَنْ عَادَيْتَ مُلْحِقٌ
اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتیرے لئے ہی نمازپڑھتے اورسجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف دوڑتے اور جلدی کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں او رتیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک تیرا عذاب تیرے دشمنوں کو ملنے والا ہے
(
۵) پھر تکبیر کہہ کر سجدہ میں چلا جائے۔
نوٹ: قنوتِ نازلہ میں دونوں ہاتھوں کا دعا کے لئے اُٹھانا مشروع ہے جیسا کہ احمد اور اسحق کا مذہب ہے مگر ہاتھوں کا چہرے سے لگانا سنت نہیں۔

قنوتِ وتر اور اس کا محل
صرف نمازِ وتر میں رکوع سے قبل یا بعد دعا کرنا۔وتروں میں دعاءِ قنوت رکوع سے پہلے یا پیچھے ہر دو طریق پرجائز ہے۔ مگر علماء کے مابین اختیار اور افضلیت میں اختلاف پایا جاتاہے چنانچہ بعض علماء رکوع سے قبل قنوت کو مختار اور افضل جانتے ہیں اور بعض دیگر محققین رکوع کے بعد قنوت کی افضلیت کے قائل ہیں۔

قنوتِ وتر کی دعا
ترمذی اور ابوداود وغیرہ میں حضرت حسنسے روایت ہے کہ آنحضرت
نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وترو ں کی قنوت میں پڑھتا ہوں اور وہ یہ ہیں 
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِيْ فِيْمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِيْ فِيْمَنْ تَوَلَّيتَ، وَبَارِکْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ،فَإِنَّکَ تَقْضِيْ وَلاَ يُقْضَي عَلَيکَ، إِنَّه لاَ يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ، وَلاَ يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ، لاَمَنْجَا مِنْکَ إِلاَّ إِلَيْکَ وَصَلّٰي اللّٰهُ عَليٰ النَّبِيِّ

قنوتِ وتر سے متعلق مختلف مسائل
۱۔ قنوتِ وتر واجب نہیں، یہی مذہب جمہور کا ہے۔
۲۔ قنوت کبھی پڑھنا او رکبھی نہ پڑھنا سنت ہے۔
۳۔ قنوتِ وتر کورمضان کے نصف ِثانی میں بھی پڑھا جاسکتا ہے۔
۴۔ قنوتِ وتر کے ساتھ قنوتِ نازلہ ملائی جاسکتی ہے۔
۵۔ قنوتِ وتر کی دعا کا بعض روایات میں صبح کی نماز میں بھی پڑھنا ثابت ہے۔
۶۔ قنوتِ وتر میں ہاتھ اُٹھانے کے بارہ میں اگرچہ کوئی صحیح روایت موجود نہیں البتہ حضرت عمر، ابن مسعود، ابن عباس، ابوایوب، ابوخیثمہ، احمد ، اسحق، ابن ابی شیبہ اور بیہقی کے نزدیک جائز ہے مگر ہاتھوں کا چہرے پر پھیرنا ثابت نہیں۔

نمازِ وتر کے آخر میں دعا
سلام پھیرنے سے پہلے یا بعدمیں اس دعاکا پڑھنا بھی ثابت ہے :
اَللّٰهمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لاَاُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَيْکَ کَمَا اَثْنَيْتَ عَلیٰ نَفْسِکَ (ابوداود، احمد، نسائی بسند صحیح)
اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں، تیری خوشی کی تیرے غصے سے او رتیرے بچاؤ کی تیرے عذاب سے اور پناہ مانگتاہوں تیری تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کرسکتا جیسی تو نے خوداپنی تعریف کی ہے

فراغت ِوتر کے بعد کے کلمات
تین بار 
سبحان الملک القدوسکہے ، آخر ی بار بآوازِ بلند۔
۱۔ وتروں کے بعد دو رکعت کا پڑھنا بھی احادیث ِصحیحہ سے ثابت ہے۔ آنحضرت نے یہ دو رکعت خود پڑھیں۔ (مسلم، احمد، بیہقی از ام سلمہ، ابی امام و عائشہ
نیز پڑھنے کا حکم فرمایا (ابن خزیمہ، دارمی بسندصحیح)
۲۔ پہلی رکعت میں سورة إذا زلزلت الأرض اور دوسری میں قل يا أيها الکٰفرون پڑھے۔ (احمد و بیہقی از ابوامامہ … دارقطنی از انس … ابن خزیمہ از عائشہو انس)

ایک شبہ اور اس کا حل
اگر کوئی کہے کہ نمازِ وتر کے بعد دو رکعت کا پڑھنا آنحضرت
کے اس فرمان کے مخالف ہے:اجعلوا اٰخر صلوتکم بالليل وترا وتر رات کی نماز (نمازِ عشاء) کے آخر میں پڑھو“ تو اس کاجواب دو طرح پر دیا گیا ہے :
۱۔ یہ دو رکعت سنت کے قائم مقام ہیں اور وتر کا تکملہ ہیں جیسا کہ نماز مغرب کے بعد دو سنت بطورِ تکملہ پڑھی جاتی ہے۔
۲۔ دو رکعت کا پڑھنا آنحضرت کے ساتھ خاص تھا اور آنحضرت کبھی پڑھتے اور کبھی نہیں۔ 
(
۴) لیلۃ القدر
لیلۃالقدر کی فضیلت و برکت کے بارے میں آنحضرت
کا فرمان ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس سے طلب ِثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کا قیام کرے اس کے سابقہ اور آئندہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ( متفق علیہ از ابوہریرہ مرفوعاً … احمد از عبادة بن صامت مرفوعاً)

Share on Google Plus

About GB NEWS ONE

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.