Search This Blog

ویب سائٹ برائے فروخت ہے

ویب سائٹ برائے فروخت ہے
ملین ویزیٹرز اور تمام سوشل میڈیا پروفائل اور پیچ کے ساتھ

GB

GB

Shigar

Shigar

Churkah

Churkah

رمضانُ المبارک کے اَحکام ومسائل ( صیام )


صوم 

صوم کا لغوی اور شرعی معنی
صَوْم جسے اُردو زبان میں روزہ سے تعبیر کرتے ہیں، کالغوی معنی رک جانا ہے اور اس کا شرعی معنی طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک تمام مُفطرات (روزہ توڑنے والی چیزوں) سے بحالت ِایمان اجر و ثواب کی نیت سے رُک جاناہے۔
روزہ کامقام:
اسلام کی عمارت جن پانچ ستونوں پر استوار کی گئی ہے، ان میں ایک روزہ ہے جومرتبہ کے اعتبار سے چوتھے درجہ پرہے جیسا کہ عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 
”اسلام کی بنا ان پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: (۱) کلمہ توحید کا اقرار (۲) نماز کی پابندی(۳) زکوٰة کی ادائیگی (۴) رمضان کا روزہ (۵) بیت اللہ کا حج“ (صحیح مسلم)
فضائل روزہ

(۱) تمام اعمالِ صالحہ میں صرف روزہ ایسا مبارک عمل ہے جس کی جزا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بنفس نفیس عطا فرمائیں گے (احمد،مسلم، نسائی از ابوہریرہ مرفوعاً)
(۲) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔
(۳) روزہ دار کو دو وجہ سے دوفرحتیں حاصل ہوتی ہے: ایک تو افطار کے وقت روزہ، چھوڑنے سے اور دوسرے ربّ سے ملاقات کے وقت جزاءِ روزہ کی وجہ سے (احمد ، مسلم، نسائی از ابوہریرہ مرفوعاً)

روزہ کی مشروعیت کا فلسفہ
روزہ جن بہترین مقاصد کے تحت مشروع قرار دیا گیاہے، ان میں سے چند ایک یہ ہیں :
(۱)گناہوں سے اجتناب (۲) شہواتِ نفسانی سے تحفظ (۳) آتش دوزخ سے نجات
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اے ایمان والو! تم پر روزہ اس طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر تھا تاکہ تم (معصیت ِخداوندی،شہواتِ نفسانی اور جہنم کی آگ سے ) بچ جاؤ“ (البقرہ : ۱۸۳)
نیز آنحضرت ﷺ کے درج ذیل فرامین ہیں:
الصيام جُنَّة ” روزہ ڈھال ہے“ (مسلم، احمد، نسائی از ابوہریرہ (
الصيام جنة من النار ”روزہ جہنم سے ڈھال ہے“ (ترمذی، از ابوہریرہ بسند حسن غریب)
”جوشخص عدمِ استطاعت کی وجہ سے شادی نہ کر پائے تو اسے روزہ رکھنا چاہئے کیونکہ یہ اس کی نفسانی خواہشات کو توڑ دے گا“۔ (بخاری و مسلم از عبداللہ بن مسعود(
(۴) صبر و ضبط کی تمرین اور مشق (۵) باہمی ہمدردی اور جذبہ ایثار کا پیدا کرنا

روزہ کے فوائد و ثمرات
۱۔صحت ِبدن: آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : صُوْمُوْا تَصَحُّوْا ”روزہ رکھو، صحت مند رہو گے “ 
۲۔ قوتِ حافظہ کی افزائش (طبرانی ا زابوہریرہ بسندقوی)
۳۔ روح کی بالیدگی

روزہ کی اقسام
روزہ کی دو قسمیں ہیں: 
(۱) مشروع: جس کے رکھنے سے شرعاً ممانعت نہ ہو 
(۲) غیر مشروع: جس کے رکھنے سے شرعا ً ممانعت ہو
پھر مشروع مزید دو قسم پر ہے : (۱) واجب (۲) نفل … پھر واجب بھی دو طرح پر ہے :
(۱) واجب بالشرع: جسے اللہ نے انسان پرفرض قرار دیا ہے جیسے رمضان اور کفارات کے روزے 
(۲) واجب بالنفس: جسے انسان نے خود اپنے اوپر لازم کرلیا ہو جیسے نذر کا روزہ۔
واجب کی طرح نفل بھی دو طرح پر ہے: (۱) مرغب فیہ: جس کے رکھنے پر شرعاً ترغیب موجود ہو جیسے شوال کے چھ روزے ، عرفہ اور عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ 
(۲) غیر مرغب فیہ: جس کارکھنا جائز ہو مگر اس کے بارے میں کوئی شرعی ترغیب نہ ہو۔
غیر مشروع بھی دو قسم پر ہے:حرام، جیسے یومِ عید کا روزہ اور ایامِ تشریق یعنی ذوالحجہ کی گیارہ، بارہ اور تیرہ کا روزہ۔اورمکروہ جیسے صرف جمعہ کے دن کا یا رمضان سے پہلے ایک یا دودن کا روزہ رکھنا۔

روزہ کے اَرکان
روزہ کے دو اہم اَرکان یہ ہیں : (۱) نیت (۲) مفطّرات سے اجتناب 
نیت کاحکم: روزہ ایک بہترین عمل ہے اور ہر عمل کی صحت کے لئے نیت کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کافرمان ہے:إنما الأعمال بالنيات اَعمال کا دارومدار نیت یعنی دل کے اِرادوں پر ہے۔ (بخاری و مسلم از عمر بن خطاب)

نیت کے مسائل
نیت کا تعلق دل سے ہے، اس لئے زبان سے بولنا شرط نہیں بلکہ علما نے اسے بدعت قرار دیا ہے لہٰذا ہمارے ہاں جو بالفاظ نویت بصوم غد کہہ کر نیت کی جاتی ہے ، یہ خلافِ سنت ہے۔
۱۔ فرض روزہ کی نیت رات کو ضروری ہے (ابن خزیمہ ،ابن حبان از حفصہ مرفوعاً بسند صحیح)
۲۔ فرض روزہ کی نیت غروبِ آفتاب سے لے کر طلوعِ فجر تک رات کے کسی حصہ میں کی جاسکتی ہے۔
۳۔ رات کو نیت اسی شخص پر ضروری ہے جو اس پر بوقت ِشب قادر ہو لہٰذا اگر کوئی بچہ ماہِ رمضان کے دن بالغ ہوجائے یا دیوانہ صحت یاب ہوجائے یا کافر اسلام لے آئے یا دن کوپتہ چلے کہ آج رمضان کا روزہ ہے تو ان صورتوں میں دن کو ہی نیت کافی ہوگی۔
۴۔ نفلی روزہ کی نیت اگر رات کو نہ ہوسکے تو دن میں کسی حصہ میں بھی کفایت کرے گی بشرطیکہ نیت سے پہلے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جس سے روزہ ٹوٹ جائے۔ (مسلم و ابوداود از عائشہ مرفوعاً)

مفطّراتِ صوم (روزہ توڑنے والی چیزیں)
مفطرات دو قسم کی ہیں: (۱) جن سے روزہ کا بطلان اور قضا لازم ہو۔ 
(۲) جن سے روزہ کا بطلان اور قضا کے علاوہ کفارہ بھی لازم آئے۔
قسم اوَل کی انواع درج ذیل ہیں :
۱۔ عمداً کھانا پینا… (متفق علیہ)
۲۔ عمدا ً قے کرنا (احمد، ابوداود، ترمذی، وغیرہم از ابوہریرہ بسند صحیح)
۳۔ حیض و نفاس اگرچہ غروب ِآفتاب سے ایک لحظہ پہلے آئے۔
۴۔ استمنا، یعنی مادہ منویہ کاعمداً نکالنا۔
۵۔ ٹیکہ جو غذائیت کے کام آئے۔
۶۔ سعوط، یعنی ناک میں دوائی وغیرہ ڈالنا۔
7- حجامت یعنی سنگی لگانے یا لگوانے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے مگر راجح بات یہی ہے کہ کمزور آدمی حجامت سے پرہیز کرے۔(۱)
8- اگر کوئی شخص یہ گمان کرکے کہ سورج غروب ہوگیا ہے، روزہ چھوڑ دے یا ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی، کھاتا پیتا رہے مگر بعد ازاں پتہ چلاکہ گمان غلط تھا، اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے مگر محققین(۲) کا مذہب یہی ہے کہ روزہ صحیح ہے اور اس کی کوئی قضا نہیں۔
قسم دوم:جس کی وجہ سے روزہ کا بطلان اور قضا کے علاوہ کفارہ بھی لازم آئے، وہ صرف عمداً جماع ہے۔یادرہے کہ اگر کوئی شخص قضاءِ رمضان یا کفاروں کے روزوں میں عمداً جماع کرے یا رمضان ہی میں بصورتِ اِکراہ یانسیان جماع کرے تو اس پر کفارہ کوئی نہیں۔

شرائط ِروزہ
۱۔غیبت نہ کرنا ۲۔جہالت اور حماقت نہ کرنا
۳۔جھوٹ اور بہتان نہ باندھنا ۴۔بے ہودہ بات نہ کرنا (متفق علیہ از ابوہریرہ)
مباحاتِ روزہ
۱۔ نہانا یا سر پرپانی ڈالنا (صحیحین از عائشہ، احمد، مالک، ابوداود، نسائی)
۲۔ آنکھ میں سرمہ یا دوائی ڈالنا۔(۳)(انس موقوفاً بسند ِجید)
۳۔ بوسہ بشرطیکہ شہوت نہ بھڑکائے (اَحمد و مسلم از عائشہ)
۴۔ حجامت (سنگی لگانا یا لگوانا) بشرطیکہ آدمی طاقتور ہو (بخاری از انس ، نسائی ، ابن خزیمہ، دارقطنی)
۵۔ فصد: جسم کے کسی حصہ سے خون نکلوانا ، اس کاحکم بھی حجامت کاسا ہے۔ (از سعید خدری بسند صحیح)
۶۔ حقنة : وہ دوائی جسے بیمار کے مقعد سے فضلہ نکالنے کے لئے چڑھایا جائے۔
۷۔ مضمضہ اور استنشاق یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا بشرطیکہ دونوں میں مبالغہ نہ کرے۔ (ابوداود، ترمذی، از لقیط بن صبرہ مرفوعاًبسند صحیح) 
۸۔ مکھی، مچھر و دیگر حشرات الارض اور ذرّات کا حلق سے اُترنا۔
۹۔ خوشبو سونگھنا
۱۰۔ دہنیات و روغنیات مثلاً گھی اور تیل کا بدن پر ملنا۔
۱۱۔ جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرنا (احمد،مسلم، ابوداؤد از عائشہ)
۱۲۔ اِحتلام ہونا
۱۳۔ خونِ حیض اور نفاس رک جانے کے باوجود صبح تک غسل نہ کرنا
۱۴۔ طلوعِ فجر میں شک کی صورت میں کھاتے پیتے رہنا
۱۵۔ مسواک کرنا
۱۶۔ مامومہ: وہ زخم جو دماغ تک سرایت کرے۔
۱۷۔ جائفہ : وہ زخم جو پیٹ تک پہنچ جائے۔
مامومہ اور جائفہ دونوں میں شرط ہے کہ ان میں وہ دوائی نہ استعمال کی جائے جو غذائیت رکھتی ہو۔
۱۸۔ کھانا وغیرہ کا ذائقہ معلوم کرنا، بشرطیکہ اِسے نگلا نہ جائے۔

آداب ِروزہ سحری
۱۔ سحری کا حکم:سحری کھانامستحب ہے اور اگر کسی وجہ سے نہ کھا سکے تو کوئی حرج نہیں۔ (متفق علیہ از انس مرفوعاً)
۲۔ سحر ی کی مقدار: سحری کی کم از کم مقدار ایک گھونٹ پانی ہے۔ (احمد از ابی سعید الخدری بسند صحیح)
۳۔ سحری کی فضیلت: اللہ کے رسول ﷺ نے اسے برکت(۵) قرار دیا ہے(متفق علیہ از انس مرفوعاً)
۴۔ سحری کی اہمیت: مسلمانوں اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے روزہ کے درمیان سحری حد ِفاصل ہے۔ (مسلم وغیرہ از عمرو بن العاص مرفوعاً)
۵۔ سحری کا وقت نصف رات سے لے کر طلوعِ فجر تک ہے۔
۶۔ سحری کا مستحب وقت طلوعِ فجر سے کچھ پہلے ہے (متفق علیہ از زید بن ثابت، احمد عن ابی ذر بسند صحیح)

افطار
۱۔تعجیل فطر: روزہ کے افطار کرنے میں جلدی کرنا افضل ہے اور اس میں تاخیر یہود و نصاریٰ کا شیوہ ہے۔ (متفق علیہ از ابن عمر و سہل بن سعد مرفوعاً… ابوداود، نسائی، ابن ماجہ از ابوہریرہ مرفوعاً بسند صحیح)
۲۔افطاری کاطریقہ: طاق اور تر کھجور سے افطاری مستحب ہے اور اگر یہ میسر نہ آئے تو پانی کے چند گھونٹ سے کرے۔ (احمد، ابوداود، ترمذی، حاکم بسند صحیح اَو حسن) 
۳۔ دعائے افطار: اَللّٰهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ(ابوداود از معاذ بن زہرہ مرسلا ً) 
مگر حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت میں دعاءِ مذکور کے بعد یہ زیادتی بھی موجود ہے: ذهب الظمأ وابتلّت العروق وثبت الأجر إن شاء الله (ابوداود، نسائی، حاکم، دارقطنی وغیرہ) 

رمضان کے روزہ کا حکم 
رمضان کاروزہ فرض ہے، چنانچہ قرآنِ کریم اور حدیث نبوی میں ہے:
۱۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْه﴾ (البقرہ: )
”تم میں سے جو شخص رمضان کامہینہ پالے تو وہ اس کے روزے رکھے“
۲۔ نبی ﷺنے فرمایا :جعل الله صيامه فريضة (بیہقی، شعب الایمان از سلمان فارسی مرفوعاً)
”اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض قرار دیئے ہیں۔“
رمضان کے روزے بروز سوموار ۲/ شعبان المعظم ۲ ھ کو فرض ہوئے۔

رمضان کے فضائل و برکات اور خصائص
۱۔ رمضان کے مبارک مہینہ میں جملہ شیاطین اور سرکش جن پابند سلاسل کردیئے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ از ابوہریرہ مرفوعاً)
۲۔ جہنم کے دروازے بند اور جنت کے تمام دَر کھول دیئے جاتے ہیں (متفق علیہ ازابوہریرہ مرفوعاً)
۳۔ رمضان کے مہینہ میں ایک نفل، فرض کے برابر اور ایک فرض کاثواب ستر گنا بڑھ جاتاہے۔ (بیہقی، شعب الایمان از سلمان فارسی مرفوعاً)
۴۔ ا س مہینہ میں کسی روزہ دار کی افطاری کروانا گناہوں کی مغفرت ، جہنم سے نجات اور افطاری کرنے والے کے برابر ثواب کاموجب ہے۔(ایضاً)
۵۔ جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلا دے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے محبوب کے حوض سے ایک ایسا گھونٹ نصیب فرمائیں گے کہ جس سے جنت میں داخلہ تک پیاس محسوس تک نہ ہوگی۔ (ایضاً)
رمضان کی فضیلت:جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس سے اجر و ثواب کی طلب کی بنیاد پر رمضان کا روزہ رکھے، اس کے پہلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (متفق علیہ از ابوہریرہ مرفوعاً)
رمضان کے روزہ کے ترک پر وعید:رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: تین چیزیں اسلام کی بنیاد ہیں،جو شخص ان میں سے ایک کو بھی چھوڑ دے تو اس کا خون مباح اور حلال ہے اور وہ یہ ہیں: (۱) کلمہ توحید کا اقرار (۲) فریضہ نماز (۳) روزئہ رمضان (ابویعلی، دیلمی از ابن عباس مرفوعاً بسند صحیح)

رمضان کے متفرق مسائل
۱۔ رمضان میں عمداً جماع کا کفارہ تین چیزوں میں سے ایک ہے۔
(i) عتق رقبة (گردن کا آزاد کرنا)
(ii) دو ماہ کے متواتر روزے
(iii)ساٹھ مسکینوں کا کھانا (متفق علیہ از ابوہریرہ)
۲۔ جمہور علماء کے نزدیک مذکورہ کفارہ میں ترتیب واجب ہے لہٰذا اگر گردن آزاد نہ کرسکے تو پھر روزے رکھے اور بصورتِ عجز ساٹھ مساکین کوکھانا دے۔
۳۔ جمہور کے نزدیک (رقبہ)غلام سے مراد مسلمان غلام (رقبہ موٴمنہ) ہے۔
۴۔ جمہور کے نزدیک ساٹھ مساکین کوکھانا کھلانا ضروری ہے گویا کہ ساٹھ کا عدد معتبر ہے اوریہی صحیح ہے
۵۔ جمہور کے نزدیک ہر مسکین کے کھانے کی مقدار ایک مد (۵۳)ہے۔
۶۔ جمہور کے نزدیک صرف عمداً جماع کی صورت میں کفارہ واجب ہے۔
۷۔ جمہور کے نزدیک کفارہ عورت پربھی واجب ہے بشرطیکہ وہ روزہ کی حالت میں مجامعت پر رضا مندہو
۸۔ جمہور کے نزدیک صرف جماع کی صورت میں کفارہ مذکورہ لازم ہوگا۔
۹۔ جمہور کے نزدیک کفارہ ہر صورت واجب ہے۔
۱۰۔ اگر کوئی شخص رمضان میں عمداً جماع کرے اور اس کا کفارہ نہ دے پھر دوسرے دن دوبارہ عمداً جماع کرے تو جمہور کے نزدیک دو کفارے لازم ہوں گے۔
۱۱۔ اگر کوئی شخص عمداً جماع کرے اور کفارہ دے دے ۔ پھر دوسرے دن دوبارہ عمداً کرے تو بالاتفاق ایک کفارہ لازم آئے گا۔
۱۲۔ اگر کوئی شخص ایک دن میں دو دفعہ جماع کرے او رپہلے جماع کا کفارہ دے دے تو جمہور کے نزدیک دوسرے کا کفارہ نہیں ہوگا۔
۱۳۔ عمداً جماع میں کفارہ کے ساتھ قضا بھی لازم ہے۔
۱۴۔ جو رمضان کا ایک روزہ عمداً چھوڑ دے، عمر بھر روزہ رکھنے سے اسکی قضا نہ ہوگی(ابوداود از ابوہریرہ)
۱۵۔ جمہور علما ءِ سلف و خلف اور ائمہ اربعہ کے نزدیک رمضان کے روزوں کی قضا، شعبان سے موٴخر نہیں ہوسکتی۔ (سنن ابوداود از عائشہ)… اگر شعبان کے گزرنے سے پہلے فوت ہوجائے اور اس کی قضا پر قادر تھا تو بالاتفاق اس کے ترکہ سے ہر دن ایک مد کھانا دیا جائے گا۔
۱۶۔ اگر کوئی شخص رمضان کے روزے عذر کی وجہ سے چھوڑے، پھر عاجز ہوگیا اورکوئی روزہ نہ رکھ سکا اور مرگیا تو اس پر کوئی روزہ نہیں اور نہ قضا ہوگی اور نہ ہی کھانا کھلانا (عون المعبود)
۱۷۔ جو شخص رمضان کی قضا دینا چاہے تو علی الترتیب پے در پے روزے رکھنا مندوب ہے اور متفرق رکھنا بھی جمہور کے نزدیک جائز ہے۔ (فتح الباری)
۱۸۔ اگر کوئی شخص رمضان موٴخر کرے حتیٰ کہ دوسرا رمضان داخل ہوجائے اور اسے طاقت بھی ہو تو وہ دوسرے رمضان کے روزے رکھے اور پہلے رمضان کے بدلے کھانا کھلائے اور بعد میں روزے رکھے یہی مذہب جمہور کا ہے۔(بخاری ، ابوہریرہ مرسلا / فتح الباری ابوہریرہ و ابن عباس موصولاً)
۱۹۔ اگر کسی شخص پر رمضان کے فرضی روزے ہوں اور وہ کوئی نفلی روزہ رکھنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ پہلے فرضی روزے رکھے۔ 
۲۰۔ حیض و نفاس والی عورت رمضان کے روزے چھوڑ دے اور بعد میں قضا دے (متفق علیہ از عائشہ)
۲۱۔ جو شخص مرگیا اور اسکے ذمہ روزہ تھا تو اسکا ولی اسکی طرف سے روزہ رکھے (متفق علیہ از عائشہ)
۲۲۔ جمہور کے نزدیک بچہ پر بلوغت سے پہلے روزہ واجب نہیں بعض ائمہ سلف نے مستحب قرار دیا ہے،ماں باپ یا دیگر اولیاء کو چاہئے کہ وہ بچوں کو روزہ رکھوائیں ۔(بخاری از الربیع بنت معوذ)
۲۳۔ بوڑھا مرد اور عورت یا دائم المرض روزہ افطار کریں اور ہر روز ایک مسکین کوکھانا دیں اور ان پرکوئی قضا نہیں۔ (دارقطنی و حاکم از ابن عباس موقوفاً)
۲۴۔ حاملہ اور مرضعہ (بچے کو دودھ پلانے والی عورت) اگر خود اپنے یا بچہ کے بارے میں خطرہ محسوس کریں تو روزہ چھوڑ دیں۔
۲۵۔ مسافر روزہ چھوڑسکتا ہے مگر بعد میں قضا دے گا۔ (جماعۃ از عمرة ابن عمر والا سلمی مرفوعاً)
نوٹ:سبل السلام میں کھانا کھلانے کی مقدار نصف صاع گندم مذکور ہے مگر شوکانی کا دعویٰ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے مقدارکے بارہ میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔البتہ حضرت ابوہریرہ سے عطاء کی روایت میں ایک مد کا ذکر ہے او رمجاہد کی روایت میں نصف صاع گندم کا ذکر ہے۔ (فتح الباری)

Share on Google Plus

About GB NEWS ONE

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.