Search This Blog

ویب سائٹ برائے فروخت ہے

ویب سائٹ برائے فروخت ہے
ملین ویزیٹرز اور تمام سوشل میڈیا پروفائل اور پیچ کے ساتھ

GB

GB

Shigar

Shigar

Churkah

Churkah

روزہ کے جدید طبی مسائل


روزہ کے جدید طبی مسائل
➖➖➖➖➖➖➖➖
1⃣مسواک :
روزہ دارکے لئے رات ودن کے کسی حصے میں مسواک کرنا سنت ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے :
"السواک مطھرۃ للفم مرضاۃ للرب " (رواہ البخاری)
ترجمہ : مسواک سے منہ صاف ہوتاہے اور اللہ کی رضامندی حاصل ہوتی ہے ۔
شیخ ابن عثیمین ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مسواک کا مزہ اور اثر تھوک میں آجائے تو روزہ دارکو چاہئے کہ تھوک اور ذائقہ نہ نگلے ۔ (فتاوی الصیام )
✅البتہ ٹوتھ برش اور پیسٹ کا استعمال کرتے وقت ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ پیسٹ قوی الاثر ہے یا غیر قوی الاثر ، کیونکہ بازار میں موجود پیسٹ دونوں طرح کی ہیں ۔
اگرپیسٹ قوی الاثر ہو یعنی اس کا اثرمعدہ تک پہنچتا ہوتو ایسی پیسٹ استعمال نہ کی جائے ۔
اور اگر پیسٹ کا اثر معدہ تک نہیں پہنچتا ہوصرف حلق تک محدود رہتاہوتو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔
2⃣قطرات کا استعمال (Drops) :
ضرروت کے تحت آنکھ ، ناک اور کان میں قطرات (Drops) ڈالنا کوئی حرج کی بات نہیں ، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ جو قطرات آنکھ ، ناک یا کان میں ڈالے جاتے ہیں ان کا اثر معدہ تک نہیں پہنچتا ،، اگر بالفرض یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ قطرات معدے میں حلول کرتے ہیں تو دوتین بوند کا اثر آنکھ سے بہ کر یا کان سے ٹپک کر یا پھر ناک سے پھیل کر معدہ تک کس مقدار میں جائے گا ؟ ۔ ظاہر سی بات ہے وہ معمولی سی مقدار ہوگی اور اس مقدار کا اثر روزہ کے لئے کسی طرح کے نقصان کا باعث نہیں ہے ۔ عرب کے مشائخ حضرات بھی اس کے جواز کافتوی دیتے ہیں تاہم احتیاطا اس عمل کو رات تک مؤخر کر لیا جائے تو اولی اور افضل ہے ۔
3⃣بے ہوشی (Anaesthisia):
کبھی کبھی انسان پر بے ہوشی کے حالات طاری ہوتے ہیں اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلا کسی حادثے میں شکار ہوکر بے ہوش ہوجائے یا علاج کی غرض سے بے ہوش کیا جائے ۔ اس سے متعلق احکام مندرجہ ذیل ہیں ۔
ناک میں گیس سونگھاکر یا چینی طریقے سے حساس مقام پر سوئی چبھوکر بعض حصے کو بے ہوش کرنا ناقض روزہ نہیں ہے ۔
مریض کی رگ میں سریع العمل انجکشن لگاکر مخصوص مدت کے لئے عقل کو ماؤف کرنا بھی ناقض روزہ نہیں ہے ۔
مریض نے بے ہوشی سے پہلے روزہ کی نیت کرلی اورپھر بے ہوش ہوا اورغروب شمس سے پہلے پہلے افاقہ ہوگیا تو اس کا روزہ صحیح ہے مگر غروب آفتاب کے بعد افاقہ ہونے پر روزہ نہیں درست ہوگا۔ اس لئے ایسے روزہ کے متعلق بہتری اسی میں ہے کہ اس کی قضا کرلی جائے ۔
بے ہوشی اگر لمبی مدت مہینہ دو مہینہ والی ہو تو اسے جنون پر قیاس کیا جائے گا اور فرض روزے چھوٹ جانے پر اس کی قضا کا مکلف نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ اللہ تعالی انسان کو اس کی طاقت سے باہر کا مکلف نہیں بنایا ہے ۔
4⃣پچھنا، نشتر اور نکسیر کا حکم :
پچھنا کے سلسلہ میں دوطرح کی احادیث وارد ہیں بعض روایات میں ذکر ہے کہ پچھنا لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہےجبکہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بحالت روزہ پچھنا لگوایا(صحیح بخاری) اور دوسروں کے لئے سینگی لگانے کی رخصت بھی دی ۔
(طبرانی ، دارقطنی)
بعض علماء نے روزہ ٹوٹنے والی روایات کو منسوخ مانا ہے اور آپ ﷺکے عمل یا امت کو رخصت دینے والی روایات کو ناسخ مانا ہے ۔ اس لئے روزہ کی حالت میں حجامت کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔ البتہ اکثر وبیشتر اہل علم کی نظر میں سینگی ناقض روزہ ہے لہذا اختلاف سے بچنے کے لئے میں یہ مشورہ دونگا کہ اس عمل کو رات تک مؤخر کرلے ۔
5⃣جسم کے اندرونی حصے میں آلات یا پائپ داخل کرنا:
مریض کو علاج کی غرض سے کبھی معدے میں یا ضرورتا کبھی مقعد میں یا صنف نازک کے اگلے اور پچھلے راستے میں آلات یا پائپ وغیرہ داخل کئے جاتے ہیں تاکہ اندرونی حصے کا چیک اپ کیا جائے ۔ اس کی مختلف شکلیں اور طریقے ہیں ۔
ان حالات میں غورطلب امر یہ ہے کہ اگر اوزاریا آلات کے استعمال میں غذائی مواد ہو توروزہ فاسد شمار ہوگا، اور یونہی بغرض معائنہ یا علاج کی خاطر غیر غذائی موادکا استعمال ہوتو روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔ دراصل یہ عمل انجکشن کے مشابہ ہے اور اسی طرح کے احکام بھی لاگو ہونگے ۔
6⃣ٹیکہ لگانا (Injection) :
ٹیکہ چاہے جلد میں لگے ، چاہے گوشت میں لگے یا پھر نص میں لگے ۔ اگر ان ٹیکوں میں غذائی مواد نہیں تو روزہ درست ہےوگرنہ روزہ فاسد ہوگا ۔
شوگر کے مریض کا ٹیکہ لگانا بھی جواز کے قبیل سے ہے ۔
شریان میں مستقل لگی رہنے والی سوئیوں کا بھی یہی حکم ہے ۔
7⃣گردوں کی صفائی (Dialysis):
گردوں کے مریض کو ڈائیلوسس کیا جاتاہے اور اس کے مختلف طریقے ہیں مگر جتنے بھی طریقے رائج ہیں ان میں غذائی ادویہ کا استعمال ہوتا ہے اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے ڈائیلوسس کا عمل ناقض روزہ ہے ۔ اگر بغیر غذائی ادویہ کے علاج ممکن ہو تو پھر روزہ درست ہوگا ۔
8⃣خون کا عطیہ (Blood Donation) :
ضرورت پڑنے پر روزہ دار اپنا خون چیک اپ کراسکتا ہے اور کسی دوسرے مریض کو اپنا خون نکال کر عطیہ بھی کرسکتا ہے ۔ یہ عمل روزہ پر اثر انداز نہیں ہوتا ،یہی شیخ ابن باز ؒ کی بھی رائے ہے ۔
(مجموعہ فتاوی ابن بازؒ 15/274)
9⃣ٹکیوں کا استعمال (Tablets) :
دل کی بعض بیماریوں کے لئے اطباء ٹکیوں کا نسخہ دیتے ہیں ، یہ ٹکیاں زبان کے نیچے رکھی جاتی ہیں اور فورا منہ میں تحلیل ہوجاتی ہیں ، ایسا کرنے سے مریض کو راحت محسوس ہوتی ہے ۔
چونکہ یہ ٹکیاں منہ ہی تک محدودرہتی ہیں ان کا اثر اندر نفوذ نہیں کرتا ، اس لئے ان ٹکیوں کا استعمال بھی بحالت روزہ جائز ہے ۔
🔟جلد پرمادے کا استعمال :
علاج کی غرض سے ہو یا شوق کے طورپر ،،،،،، جلد پر کسی بھی قسم کا تیل ، مرہم اور کریم کا استعمال کرسکتے ہیں ۔
"جلدپرملی جانے والی کوئی بھی چیز مسام کے ذریعہ جلد کے نیچے خونی مواد میں جذب ہوجاتی ہے لیکن جذب ہونے کا یہ عمل بہت سست ہے ۔ لہذا جلد پرملی جانے والی بھی چیز ناقض روزہ نہیں " (مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ ؒ 25/ 267)
1⃣1⃣دانتوں کی صفائی :
روزہ کی حالت میں دانتوں کی صفائی (Scaning) یا دانت نکلوانایا دانتوں کی اصلاح کرنا سارے امور جائز ہیں ۔ احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عمل کو رات کے لئے مؤخر کردیں یا دن میں ایسا عمل انجام دینے کی صورت میں دانتوں سے بہنے والا خون حلق سے نیچے نہ اتارے ۔ دانتوں کی صفائی میں استعمال ہونے والے ٹیکے بھی روزے کے لئے نقصان دہ نہیں ۔
2⃣1⃣زخموں کا علاج :
جسم کے کسی حصے میں زخم ہو، روزہ دار ان زخموں کا علاج کراسکتا ہےکیونکہ یہ عمل نہ تو کھانے پینے پر قیاس کیا جائے گا اور نہ ہی عرف میں اسے کھاناپینا کہتے ہیں ۔
3⃣1⃣اسپرے کا حکم :
دمہ کے مریضوں کے لئے اسپرے (بخاخ) کی ضرورت پڑتی ہے ، یہ ان کی سخت ترین مجبوری ہے ، اور اسلام میں قاعدہ ہے کہ آدمی جس چیز کا مضطر ہوتا ہے اس کے لئے اس چیز کا استعمال جائز ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
"وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ) "الأنعام:119(
ترجمہ : اورجو چیزیں اس نے تمہارے لئےحرام ٹھہرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ.
لہذا دمہ کا مریض روزہ رکھتے ہوئے اسپرے کا استعمال کرے گااور اس کا روزہ درست ہوگا۔ اور اسے رکھے گئے روزہ کی قضا نہیں کرنی پڑے گی ۔
اللہ تعالی نے دین اسلام کو اپنے بندوں کی خاطر آسان بنا دیا ہے ، حسب سہولت یعنی بقدر استطاعت دین پر عمل پیرا ہونا ہماری اولین ذمہ داری ہے ۔ جہاں اللہ تعالی نے مسافروں ، مریضوں اور معذوروں کو رخصت دی ہے وہاں رخصت پر عمل کرنا ہی افضل ہے اور رخصت پر عمل کرتے ہوئے دل میں ذرہ برابر بھی تنگی کا احساس نہ پیدا ہونے پائے جیسا کہ بعض مخصوص طبقوں میں یہ دیکھا جاتا ہے ۔
اللہ تعالی سے دعاہے رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے ہمارا دامن بھردے اورسابقہ تمام گناہوں سے پاک کردے اور ہرکوشش کرنے والوں کوشب قدرکی فضیلت عطا فرئے ۔
〰〰〰〰〰〰〰
Share on Google Plus

About GB NEWS ONE

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.