روزے کے احکام و مسائل​



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ​


روزے کے احکام و مسائل​


ماہِ رمضان کا دخول ۹۲شعبان کو چاند نظر آنے یا شعبان کے تیس دن مکمل ہونے سے ثابت ہو جاتا ہے۔


ماہِ رمضان کے شروع میں (پورے رمضان کے لےئے) ایک مرتبہ نیت کر لینا کافی ہے۔ مگر بیچ رمضان میں سفر یا مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھا تو ازسرِ نو نیت کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس نے پہلی نیت توڑ دی ہے۔


اگر کوئی شخص بڑھاپے کے سبب یا ایسی بیماری کی وجہ سے جس سے صحت کی امید نہیں ، روزہ نہ رکھ سکے تو وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا اگر وہ اس کی طاقت رکھے۔

نماز ترک کرنے والے کا نہ روزہ صحیح ہے اور نہ ہی اس کا روزہ مقبول ہو گا ، کیونکہ نماز چھوڑنے والا کافر ومرتد ہے اﷲ تعالیٰ کے اس قول کی بنا پر (اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة دیتے رہیں تو تمارے دینی بھائی ہیں) [سورہ توبہ:۱۱] نیز نبی کریمﷺ فرماتے ہیں (مسلمان اور شرک وکفر کے درمیان حدِ فاصل ترکِ نماز ہے) اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

جب یہ معلوم ہو کہ مؤذن طلوع فجر سے پہلے اذان نہیں دیتا تو اس کے اذان شروع کرنے کے ساتھ ہی کھانے پینے اور دیگر تمام روزہ توڑنے والی چیزوں سے رک جانا ضروری ہے ، ہاں اگر وہ اذان ظن و تخمین اور جنتری کی بنیاد پر دیتا ہو تو اذان کے وقت کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں۔


روزہ دار کا تھوک نگلنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔میرے علم کے مطابق اہلِ علم کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ رینٹ اور بلغم جب منہ تک پہنچ جائے تو اس کو اگل دینا ضروری ہے، کیونکہ روزہ دار کے لےئے اس کو نگلنا اس وجہ سے جائز نہیں کہ اس کا اس سے بچنا آسان اور ممکن ہے۔


روزہ دار سے نکسیر ، استحاضہ اور اس جیسا دوسرا کوئی خون نکلنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، صرف حیض، نفاس اور پچھنا لگوانے کے خون ہی سے روزہ فاسد ہوتا ہے، البتہ ضرورت کے وقت خون کا ٹیسٹ کروانے کے لےئے روزہ دار کا خون نکلوانے میں کوئی حرج نہیں۔

اگر کسی نے عمداً قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، البتہ اگر کسی کو بلاقصد خودبخود قے آ جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا


غرغرہ کی دوا استعمال کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ دوا پیٹ میں نہ جائے ، لیکن بلا ضرورت غرغرہ نہ کرے۔


آنکھ یا کان میں دوا ڈالنے نیز آنکھ میں سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔


بوقتِ ضرورت کھانے کا ذائقہ چکھنے میں کوئی حرج نہیں ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ زبان کے کنارہ میں رکھ کر چکھے اور اسے حلق تک نہ جانے دے۔


اگر میاں بیوی رمضان میں روزہ کی حالت میں ہوں اور شوہر اپنی بیوی سے زبردستی جماع کر لے ، تو بیوی کا روز ہ صحیح ہو گا اور اس پر کوئی کفارہ بھی نہیں ، البتہ شوہر گنہگار ہو گا ، نیز شوہر پر اس دن کے روزے کی قضا اور کفارہ لازم ہو گا ۔ کفارہ یہ ہے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو مسلسل دو مہینے روزہ رکھے ، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔

اگر ذہن میں شہوت کا تصور کیا اور منی خارج ہو گئی ، یا سوتے میں احتلام ہو گیا ، تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔

مذی نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔(لیسدار پتلے مادے کو مذی کہتے ہیںجو غلبہ شہوت کے وقت نکلتا ہے)۔

بطور علاج ایسا انجکشن جو کھانے پینے یا غذا کا بدل نہ ہو ، خواہ وہ مریض کے پٹھے پر لگایا جائے یا نس میں اور خواہ مریض اس کی کڑواہٹ اپنے حلق میں محسوس کرے، تب بھی اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو اس کا روزہ صحیح ہو گا ، لیکن جب یاد آئے تو فوراً کھانے پینے سے ہاتھ روک لینا واجب ہے، حتیٰ کہ منہ کا لقمہ یا گھونٹ بھی اگل دینا واجب ہے۔

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کا حکم مریض جیسا ہے ، اگر ان کے لےئے روزہ رکھنا مشقت کا باعث ہو تو ان کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، ہاں ! جب دونوں روزہ رکھنے پر قادر ہوں تو ان پر فوت شدہ روزوں کی قضا واجب ہے۔

اگر ناک میں دوا ڈالنے سے دوا حلق یا معدہ تک پہنچ جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

اگر روزہ دار ایسا انجکشن لگوائے جو کھانے پینے اور بھوک کے لئیے کافی ہو تو اس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

اگر کوئی مسلمان رمضان بھر بیمار رہا اور بعد رمضان اسی بیماری سے وفات پا گیا تو نہ اس پر قضا ہے اور نہ مسکین کو کھانا کھلانا ، کیونکہ وہ شرعاً معذور تھا۔

مسافر کے لئیے مطلقاً روزہ نہ رکھنا افضل ہے ، اور جو بحالتِ سفر روزہ رکھ لے، اس پر کوئی حرج بھی نہیں ، کیونکہ سفر کی حالت میں نبیﷺ سے روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں ثابت ہے، البتہ گرمی کی شدت ہو اور مشقت دوچند ہو جائے تو ایسی صورت میں مسافر کے لئیے روزہ نہ رکھنا متعین ہو جاتا ہے ، بلکہ اس کے لئیے اس حالت میں روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

روزہ دار کے لئیے رمضان کے دن میں نیز دوسرے دنوں میں بھی بحالتِ روزہ مسواک کرنے سے پرہیز کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا، کیونکہ مسواک کرنا بہر صورت سنت ہے ۔

روزہ دار کے لئیے خوشبو لگانا اور سونگھنا جائز ہے ، مگر بخور نہ سونگھے ، کیونکہ بخور کا دھواں کثیف اور گاڑھا ہوتا ہے جو معدہ تک پہنچتا ہے۔

دانت سے خون نکلنے سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، مگر جہاں تک ممکن ہو سکے خون نگلنے سے پرہیز کرے ، اس طرح اگر کسی کی نکسیر پھوٹ جائے اور اس نے خون نگلنے سے پرہیز کیا تو اس پر نہ کچھ واجب اور نہ ہی قضا لازم ہے۔