دنیا سے ڈر کے تیرے کوچے میں آیا ہوں میں / اپنے خوابوں کی کوئی تعبیر کر

شاعر : یاسین شامی

دنیا سے ڈر کے تیرے کوچے میں آیا ہوں میں
سب کو چھوڑا بس تیری امیدیں لایا ہوں میں

مجھ کو ٹھکرا کے خوش فہمی میں مت رہنا ناداں!
سوچا کیسے؟ تم میں اک لمحہ بھی کھویا ہوں میں

آئینہ جب بھی دیکھوں، تیری صورت آتی ہے
کیسے سمجھاؤں؟ کہ میں تو اور تو گویا ہوں میں

میرے قلبِ مضطر پر کیا گزرا، تو کیا جانے؟
میں خود ہی یہ دیکھوں کہ کیا تھا اور اب کیا ہوں میں

چہرے پر رعنائی آئی ہے، وجہ اس کی  لے
جس کو عرصے سے کھویا تھا اس کو پایا ہوں میں
-------------------؛ ----------------؛ --------------------

شاعر : یاسین سامی

اپنے خوابوں کی کوئی تعبیر کر
اک حسیں دنیا نئی تعمیر کر
یہ جہاں قلعہ ہے بغض و حسد کا
تُو محبت سے اسے تسخیرکر
جائزہ لے پہلے سچ اور جھوٹ کا
بات سچی ہو تو پھر تشہیر کر
ہر زباں ہونے لگی ہے فتنہ گر
تُو محبت کی کوئی تقریر کر
زندگانی کا صحیفہ کھول کر
ہر ورق پر امن کو تحریر کر
ہے تقاضا غلبہء اسلام کا
اب بلند تُو نعرہء تکبیر کر
تیرے نالے کا جواب آجائےگا
پہلے پیدا اس میں تُو تاثیر کر