اپنے خوابوں کی کوئی تعبیر کر

《《 یاسین سامی 》》
اپنے خوابوں کی کوئی تعبیر کر
اک حسیں دنیا نئی تعمیر کر
یہ جہاں قلعہ ہے بغض و حسد کا
تُو محبت سے اسے تسخیرکر
جائزہ لے پہلے سچ اور جھوٹ کا
بات سچی ہو تو پھر تشہیر کر
ہر زباں ہونے لگی ہے فتنہ گر
تُو محبت کی کوئی تقریر کر
زندگانی کا صحیفہ کھول کر
ہر ورق پر امن کو تحریر کر
ہے تقاضا غلبہء اسلام کا
اب بلند تُو نعرہء تکبیر کر
تیرے نالے کا جواب آجائےگا
پہلے پیدا اس میں تُو تاثیر کر