صولت مرزا کو مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی


صولت مرزا کو مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی
صولت مرزا کی اہلیہ نے کہا تھا کہ ’صولت مرزا جیسے لوگ مہرے ہیں جو دوسروں کے کہنے پر جرائم کرتے ہیں‘

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق صولت مرزا کو بلوچستان کی مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

انھیں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس سے پہلے صولت مرزا کی پھانسی دو بار ملتوی کی جا چکی تھی، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ان کے تیسری بار ڈیتھ وارنٹ جاری ہوئے تھے، جن پر 12 مئی کو علی الصبح عمل درآمد کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ صولت مرزا نے رواں برس 18 مارچ کو اپنی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد سے چندگھنٹے قبل نشر کیے گئے ویڈیو بیان میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سمیت جماعت کی اہم قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

یہ انٹرویو سامنے آنے کے بعد ان کی سزائے موت پر عمل درآمد 30 اپریل تک کے لیے روک دیا گیا تھا اور وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو صولت مرزا کے بیان کی روشنی میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے بعد گذشتہ ہفتے صولت مرزا کی اہلیہ نگہت مرزا نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کے شوہر کے حالیہ بیان کی روشنی میں شاہد حامد قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات کی جا رہی ہیں، اس لیے جب تک یہ تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکا جائے۔

صولت مرزا کو 1997 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کو ان کے ڈرائیور اور محافظ سمیت قتل کرنے کے جرم میں 1999 میں پھانسی کی سزاسنائی گئی تھی اور کچھ عرصہ قبل سکیورٹی وجوہات کی بنیاد انھیں مچھ جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔

صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’الطاف حسین جو بابر غوری کے ذریعے ہدایات دیتے تھے، ایک دن بابر غوری کےگھر پر بلا کر الطاف حسین نے کہا کے ای ایس سی کے ایم ڈی کو مارنا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایم کیو ایم گورنر سندھ عشرت العباد کے ذریعے اپنے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو تحفظ دیتی ہے۔ ان کے بقول ’ ایم کیو ایم کے کہنے پر پیپلز پارٹی کی حکومت میں انھیں جیل میں بھی سہولیات دی گئیں۔‘