کاش پرویز بے رشید مدرسوں پر تنقید کرنے سے پہلے اتنا جان لیتے (بقلم : شکیل احمد )

کاش پرویز بے رشید مدرسوں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے ہی خادم اعلیٰ کا بنایا هوا دانش اسکول پر ایک نظر ڈڑاتے جهاں سکولوں کے صحن میں بیهسیں بھندے هوئے ہیں  آپ جنوبی پنجاب چلے جائیں  جہاں کے  سرکاری سکول جسے پرویز صاحب علم کے سمندر قرار دے رهے ہیں  طلبہ کے بجائے وهاں وڈیروں کی گائے بہیسیں علم کے سمندر میں غوطے لگا رهے هونگے اور ڈیری فارم والے ان کی تهوں  سے نکلے والی مشروب علم  میں روشن خیالی کا پانی مکس کرکے پورے پاکستان میں سپلائی کرتے تاکہ ملک ملائی سوچ سے محفوظ رهے  ...  آپ خیبر پختون خواہ جائیں جہاں سکول کی عمارتوں میں نسوار کی دوکانیں ملیں گے جهاں نسوار کے زریعہ قوم کی فکری تربیت کا ذمہ داری احسن طریقہ ادا کی جارهی هیں 
اپ اندروں سندھ چلے جائیں جہاں سکول کی عمارتیں مسکونات جنات بنی هوئی هے   آپ کراچی چلے جائیں  جهاں بهتہ کی پرچیاں بن رهی هے
آپ بلوچستان چلے جائیں جهاں  ایران سے اسمگلنگ شده ڈیزل اور شراب کی بوتلیں  ملیں گے  آپ گلگت بلتستان چلے جائیں جهاں اجکل سیاسی پارٹیوں کی میٹنگیں چل رهی ٹیچر سکول میں اتے وقت کتاب کے بجائے پیلچے لیکر اتے  . 
آپ کسی بهی صوبہ کے کسی بهی مدرسہ میں جائیں نہ آپ کو وهاں بہیسں دیکہنے کو ملے گا نہ جنات نہ بهتہ کی پرچیاں نہ ایرانی اسمگلنگ شده تیل نہ شراب کی بوتلیں نہ پیلچے نہ سیاسی جماعتوں کی بینر و پوسٹر  آپ کو وهاں  قرآن مجید اور علوم شرعیہ کی مبارک کتابیں ملیں گے جس میں دین بهی هے دنیا بهی  جو میراث نبوت هے  جو سعادت وسربلندی کی اصل کنجی هے جو امن وترقی ضامن هے