ماں کی دعا ( از قلم : یاسین سامی )

ماں کی دعا ( از قلم : یاسین سامی )

زندگی کی مری ابتدا میری ماں کی دعا
زندگی کی مری انتہا میری ماں کی دعا

میں گناہوں کا پتلا، مگر سن لے میرے خدا
ہے مری ایک ہی التجا میری ماں کی دعا

آتی ہے جب کبھی زندگی میں مصیبت کوئی
میرا بن جاتی ہے آسرا میری ماں کی دعا

ماں کے قدموں کے نیچے ہے جنت کا دروازہ وا
آرہی ہے مجھے اک صدا میری ماں کی دعا

دل مرا شاد رہتا ہے، آنکھوں میں میری چمک
کان میں گونجتی ہے سدا میری ماں کی دعا

عالمِ مدہوشی میں، میں کھو جاتا ہوں ہر ادا
یاد رہتی ہے اک ہی ادا، میری ماں کی دعا

میری آنکھوں میں تاریکی پھیلی ہوئی ہے مگر
تیرگئی شب میں ہے اک ضیا میری ماں کی دعا

مشکلوں کا سفر ہے، کٹھن ہے بہت راہ بھی
پر نہیں غم، ہے جو زاد راہ میری ماں کی دعا

یا الٰہی مری اک تمنا ہے بس ایک ہی
ہو مری زندگی کی عطا میری ماں کی دعا

ہر دعا مانگتی ہے مری ماں محبت سے تب
ٹال دیتی ہے ہر اک بلا میری ماں کی دعا

یوں تو گلشن سے خوشبو مہکتی ہے ساری مگر
ایک خوشبو ہے سب سے جدا میری ماں کی دعا

جب کبھی ڈوبنے لگتی ہے کشتی منجدھار میں
سنتا ہے اس سمے بھی خدا میری ماں کی دعا

عارضی ہے بقا اس جہاں میں سنو سامیؔ جی
سرمدی ہے خدا کی رِضا میری ماں کی دعا