انقلابی کہاں گئے ؟

 ایک لمبی سانس لیجئے اور وقت کو آج 9 اپریل2015ء سے ’’ریوائنڈ‘‘ کرتے ہوئے واپس 10 اگست 2014ء تک لے جائیے اور نئے پاکستان اور پرانے پاکستان کا تجزیہ کیجئے‘ آپ تن‘ من اور دھن سے دھرنے کو سپورٹ کرنے والے بزنس مینوں‘ سیاستدانوں اور میڈیا پرسنز کے خیالات نکالئے اور اس کے بعد ان چند اینکر پرسنز‘ کالم نگاروں‘ سیاستدانوں اور بزنس مینوں کی معروضات کا پوسٹ مارٹم کیجئے جو تواتر سے یہ عرض کر رہے تھے‘ یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی‘ حکومت نہیں جائے گی‘ عمران خان اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کر سکیں گے اور اسٹیبلشمنٹ میاں نواز شریف کو فارغ نہیں کرنا چاہتی‘ یہ اس تحریک کے ذریعے حکومت کو صرف رگڑا لگائے گی‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے‘ میری آٹھ ماہ میں کون سی بات غلط ثابت ہوئی اور دھرنے کو سپورٹ کرنے والے جغادریوں کی کون سی پیشن گوئی سچ نکلی‘آپ جواب دیجئے کیا 14 اگست2014ء کو عمران خان کے ساتھ دس لاکھ لوگ باہر نکلے‘کیا قافلے کے ساتھ ایک لاکھ موٹر سائیکل تھے‘ کیا لوگ پورے پاکستان سے اسلام آباد آئے‘ کیا سول نافرمانی کی کال کامیاب ہوئی‘ کیا عمران خان کے اعلان کے بعد عوام نے ٹیکس دینا بند کیا‘ کیا پورے ملک نے بجلی کے بل جلائے‘ کیا پی ٹی آئی کے تمام ارکان نے بجلی کے کنکشن کٹوائے‘ کیا لوگوں نے سرکاری بینکوں کا بائیکاٹ کیا‘ کیا لوگوں نے ہنڈی کے ذریعے پیسے بھجوائے‘ کیا ایمپائر کی انگلی اٹھی‘ کیا ایک بال سے دو وکٹیں گریں‘ کیا میاں نواز شریف نے استعفیٰ دیا‘ کیا اسلام آباد میں ایس ایس پی اور آئی جی کا عہدہ مستقل خالی رہا‘ کیا خیبر پختونخواہ کی حکومت ختم ہوئی‘ کیا ’’کے پی کے‘‘ کی اسمبلی ٹوٹی‘ کیا وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے گورنر ہاؤس کا بائیکاٹ کیا‘ کیا یہ خود کو’’کامن انٹرسٹ‘‘ سے باہر رکھ سکے‘ کیا جماعت اسلامی‘ پاکستان مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم نے اسمبلیوں سے استعفے دیئے‘ کیا بیوروکریسی نے حکومتی احکامات ماننے سے انکار کیا‘ کیا فوج پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہوئی‘ کیا اسمبلیاں ٹوٹیں‘ کیا دنیا بھر سے لوگ آئے اور آکر دھرنے میں شامل ہوئے‘ کیا دھرنا میاں نواز شریف کے استعفیٰ تک قائم رہا‘ کیا مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس‘ وزیراعظم ہاؤس‘ ایوان صدر اور پی ٹی وی پر قبضہ برقرار رکھ سکے‘ کیا سپریم کورٹ نے حکومت کے خلاف سوموٹو نوٹس لیا اور کیا لوگوں نے اسمبلیوں کی عمارتوں کو گرایا‘ جلایا اور تباہ کیا اور کیا عمران خان اپنے ارکان کو قومی اسمبلی سے مستقل باہر رکھ پائے؟ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے‘ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے سروں پر کفن باندھے‘ جنہوں نے انقلاب کے بغیر زندہ واپس نہ جانے کی قسم کھائی تھی‘ انقلابی کزن کہاں ہیں‘ خندقیں کھودنے‘ قبریں بنانے‘ کفن سینے‘ ماتھوں پر شہادت لکھنے اور ریڈ زون میں اذانیں دینے والے مجاہدین کہاں ہیں‘ ڈنڈے اٹھانے‘ ڈنڈوں پر کیلیں لگانے اور پولیس اہلکاروں کی سرے عام تلاشی لینے والے کہاں ہیں‘ وہ ٹائیگرز اور ٹائیگریسز کہاں ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا تھا ’’میں انہیں زیادہ دیر تک نہیں روک سکوں گا‘‘ ملک کے ظالمانہ‘ بے ایمانہ اور بہیمانہ نظام کو زندہ دفن کرنے والے کہاں ہیں اور پارلیمنٹ کو ناجائز‘ دھاندلی زدہ‘ کرپٹ اور ربڑ سٹیمپ کہنے والے بھی کہاں ہیں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھئے اور جواب دیجئے 18 اگست کو قومی اسمبلی سے استعفے کا اعلان ہوا‘ 30 ارکان نے استعفیٰ دے دیا‘ تین ارکان گلزار خان‘ مسرت احمد زیب اور ناصر خان خٹک نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا‘ یہ آخری وقت تک قومی اسمبلی میں ڈٹے رہے‘ پارٹی انہیں غدار‘ بکاؤ اور مفاد پرست کہتی رہی لیکن 7 اپریل کو پی ٹی آئی کے تمام ’’مستعفی‘‘ ارکان قومی اسمبلی میں ان تین غیر مستعفی غدار ارکان کے ساتھ بیٹھ گئے‘ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے کون سچا ثابت ہوا‘ یہ تین ارکان یا 30 ارکان‘ کیا یہ سچ نہیں آپ نے ساڑھے سات ماہ پارلیمنٹ کو ناجائز قرار دیا اور پانچ مارچ کو سینٹ کو صاف اور پاک قرار دے دیا‘ کیا یہ سچ نہیں چار سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے ’’نوٹی فکیشن‘‘ کے ساتھ ہی پوری تحریک ختم ہو گئی‘کیا یہ سچ نہیں عوام کی لاشیں گرتی رہیں‘ 14لاہور میں مر گئے‘ تین پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مارے گئے‘ حق نواز فیصل آباد میں مر گیا اور 7 ملتان میں لوگوں کے پیروں تلے کچلے گئے لیکن انقلاب مذاکرات کرتا رہا‘ علامہ طاہر القادری اور ان کے جانثار 68 دن کنٹینروں اور خیموں میں محصور رہے‘ یہ خندقوں میں گر کر مرتے رہے‘ یہ دھول‘ مٹی‘ بارش اور یخ ہوائیں سہتے رہے اور انقلاب کے کزن رات کو بنی گالہ تشریف لے جاتے اور اگلی شام نہا دھو کر واپس آ جاتے! کیا عدالتوں کو جانبدار قرار نہیں دیا گیا‘ کیا ٹریبونلز کو سست اور حکومت کا حصہ نہیں کہا گیا اور پھر یہ لوگ انہی ٹریبونل میں پیش نہیں ہوئے؟ کیا افتخار محمد چودھری کو برا بھلا نہیں کہا گیا اور پھر عدالتوں میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا‘ کیا حنیف عباسی کو ایفی ڈرین عباسی نہیں کہا گیا اور جب حنیف عباسی نے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تو آپ عدالت ہی میں پیش نہیں ہوئے‘ کیا وہ جاوید ہاشمی جسے پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے سے اختلاف پر پارٹی صدارت سے فارغ کر دیا گیا تھا‘ کیا آج ان کا موقف درست اور پارٹی کی رائے غلط ثابت نہیں ہوئی؟ کیا آج پارٹی کے وہ تمام نوجوان ایم این اے سچے ثابت نہیں ہوئے جو کور کمیٹی کے اجلاس میں سینئر قیادت کو غلط فیصلوں سے روکنے کی کوشش کرتے تھے‘کیا شہریار آفریدی‘ مراد سعید‘ علی محمد خان اور شوکت یوسفزئی ٹھیک اور باقی غلط ثابت نہیں ہوئے‘ کیا یہ درست نہیں پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہے‘ ناتجربہ کار مجاہدوں کا گروپ قیادت سے غلطیاں کرا رہا ہے جبکہ مخدوم شاہ محمود قریشی‘ جہانگیر ترین‘ شفقت محمود‘ اسحاق خاکوانی اعظم سواتی اور غلام سرور خان جیسے تجربہ کار لوگ غلطیوں کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کیا یہ درست نہیں آپ نے جس میڈیا گروپ کا سات ماہ بائیکاٹ کئے رکھا‘ آپ کے ورکر جس کے دفتر پر حملے کرتے رہے‘ آپ بالآخر اس سے بھی یوٹرن پر مجبور ہوئے‘ آپ نے جس پارلیمنٹ کو جعلی‘ کرپٹ اور جلا دینے کے قابل قرار دیا تھا آپ اس میں جانے‘ بیٹھنے اور کارروائی کا حصہ بننے پر مجبور ہوئے‘ کیا یہ حقیقت نہیں آپ میڈیا کے جن لوگوں کو اپنا دوست قرار دیتے تھے وہ آج آپ کے خلاف سلطانی گواہ بن رہے ہیں‘ وہ آج سوشل میڈیا پر آپ کی وڈیوز جاری کر رہے ہیں‘ وہ آج آپ کی آڈیو ٹیپ میڈیا پر نشر کر رہے ہیں اور وہ میڈیا پرسنز‘ اینکر پرسنز اور کالم نگار جنہیں آپ آٹھ ماہ تک ماں بہن کی گالیاں دیتے رہے وہ آج آپ کے ساتھ کھڑے ہیں‘ وہ آج بھی آپ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔
تجربہ ہمیشہ علم اور عقل سے بڑا ہوتا ہے‘مجھے پہلے دن سے اس تحریک کی ناکامی کا یقین تھا‘ کیوں؟ صرف تجربہ‘ میں نے 1992ء میں صحافت جوائن کی‘ میں نے ان 23 برسوں میں سات بڑے سیاسی بحران دیکھے‘ میرے سامنے 1992ء میں نواز شریف کی حکومت گئی‘ سپریم کورٹ سے نواز شریف کی حکومت پھر بحال ہوئی‘ میاں نواز شریف نے ’’میں استعفیٰ نہیں دوں گا‘‘ کا اعلان کیا اور پھر جنرل عبدالوحید کاکڑنے چھڑی کے اشارے سے نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں کو فارغ کر دیا‘ میں نے بے نظیر کی دوسری حکومت کو بنتے‘ فاروق احمد لغاری کو صدر بناتے اور پھر فاروق بھائی کو فارغ بھائی بنتے دیکھا‘ میں نے میاں نواز شریف اور فاروق لغاری میں خفیہ سمجھوتہ بھی دیکھا‘ نواز شریف کی دوسری حکومت بنتے دیکھی‘ جنرل مشرف اور نواز شریف کے اختلافات دیکھے‘ نواز شریف کی حکومت فارغ ہوتی دیکھی‘میاں نواز شریف اور بے نظیر کی پارٹی ٹوٹتے دیکھی‘ جنرل مشرف کو صدر بنتے دیکھا‘ جمہوریت کے صاحبزادوں کو اسمبلیوں میں جنرل مشرف کی وردی کے حق میں قراردادیں پاس کرتے دیکھا‘ جنرل مشرف کو افتخار محمد چودھری کے ہاتھوں خوار ہوتے دیکھا‘ سیاسی قائدین کو افتخار محمد چودھری کا جھنڈا اٹھاتے اور پھر یہ جھنڈا گراتے دیکھا‘ میرے سامنے نواز شریف اور زرداری بھائی بھائی بنے اور پھر میاں شہباز شریف کو زرداری کو گوالمنڈی چوک پر الٹا لٹکانے کا اعلان کرتے بھی دیکھا اور پھر دونوں بھائیوں کو زرداری صاحب کی دعوت کرتے بھی دیکھا‘ میں نے ایم کیو ایم کے خلاف بھی تین آپریشن دیکھے اور پھر ان آپریشنز کے نتائج کو سیاسی بھٹی میں راکھ ہوتے بھی دیکھا‘ یہ میرے سیاسی تجربات تھے اور یہ تجربات چیخ چیخ کر بتا رہے تھے عمران خان اور علامہ طاہر القادری استعمال ہو رہے ہیں‘ دھرنے کا مقصد پاکستان کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ عمران خان سمیت ملک کی ساری سیاسی قیادت کو نیچے لگانا اور اس میڈیا کو نکیل ڈالنا ہے جو کسی کے قابو نہیں آ رہا‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ دھرنے سے پہلے کے پاکستان اور دھرنے کے بعد کے پاکستان کا تجزیہ کر لیجئے‘ آپ کو اصل بات سمجھ آ جائے گی‘ آپ یاد کیجئے عمران خان نے جولائی 2012ء میں ڈرون حملوں کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا‘ عمران خان کو یہ مارچ ’’کال آف‘‘ کرنے کا حکم دیا گیا‘ عمران خان نے انکار بھی کر دیا اور یہ7اکتوبر2012ء کو وزیرستان بھی پہنچے لیکن دھرنے کے بعد 16 دسمبر کو نسبتاً ایک جونیئر آفیسر نے فون کیا اور عمران خان نہ صرف پشاور گئے بلکہ یہ میاں نواز شریف کے ساتھ بھی بیٹھے‘ دھرنے کے خاتمے کا اعلان بھی کیا اور یہ اے پی سی میں بھی شریک ہوئے‘ دھرنے سے قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کوئی سرکاری ملازم کسی غیر ملکی مہمان سے براہ راست نہیں ملے گا لیکن دھرنے کے بعد ہمارے آرمی چیف امریکا اور برطانیہ کے دوروں پرگئے اور وہاں انہیں ہیڈ آف سٹیٹ کا پروٹوکول بھی ملا‘ یہ ہے وہ تبدیلی جو آئی نہیں بلکہ آ چکی ہے‘ یہ ہے وہ نیا پاکستان جس کا خواب دکھایا جاتا رہا‘ باقی سب پرانا ہے ویسا ہی پرانا جیسا 14 اگست 2014ء تک تھا۔