دنیا کے 20 دانشوروں میں سے پہلے10 مسلمان  


جذبوں اور ارادوں سے جیت کے رنگ حسین ترین ہو جاتے ہیں اور انسان نئی سے نئی منزل کی طرف گامزن رہتا ہے ۔ اپنی سوچ‘ خیالات‘ نظریات‘ روایوں سے انسان نئے معیار سیٹ کرتا ہے۔ اپنا رستہ بنانے والا اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے شمع روشن کیے جاتا ہے۔ اس کا ہر قدم پہلے قدم پر نہیں بلکہ اس قدم سے کہیں آگے پڑتا ہے۔ شاعر ایک دانشور کو یوں حوصلہ فراہم کرتا ہے

امریکی جریدے فارن پالیسی اور انگلستان کے پروسپیکٹ میگزین کی جانب سے دنیا بھر سے صف اول کے جن 20عوامی دانشوروں کے حوالے سے سروے رپورٹ شائع ہوئی اس میں پہلے10دانشور مسلمان ہیں لہٰذا اس اعزاز کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختصر انداز میں ان دانشوروں کے خیالات و جذبات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جن سے ان کی بین الاقوامی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
( 01 ) فتح اللہ گولن ترکی


پہلے نمبر پر آنے والے وہ معروف مبلغ مصنف و لیکچرار ہیں جن کی تعریف ایک ایسے اسلامی سکالر کی حیثیت سے کی جا سکتی ہے جنہیں ترکی اور یورپ کے مسلمانوں کے علاوہ دوسری الہامی کتب کے مذاہب کے عوام بھی انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی کتب و بیانات ‘رواداری اور امن بقائے باہمی کے ان اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں جو اسلامی روایات کے مطابق جدید تعلیم حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان کی تعلیمات کا دائرہ اسلام پر زندگی گزارنے کے اصول واضح کرتا ہے۔60 سے زائد کتابیں سیاسی سماجی و دینی موضوعات پر تحریر کی ہیں جن میں سیرت نبوی پر ’’نورسرمد‘ فخر انسانیت‘‘ بھی ہے۔1999ء سے خودساختہ جلاوطنی اختیار کر کے امریکا میں رہ رہے ہیں۔
( 02 ) محمدیونس بنگلہ دیش


ان کی تعلیمی قابلیت پی ایچ ڈی ہے۔1976ء میں بنگلہ دیش میں’’غربت مٹاؤ‘‘ مہم کا آغاز کرتے ہوئے ایک گاؤں کی 42 عورتوں کو اپنی ذاتی آمدن میں سے27 ڈالر قرضے کی مد میں دئیے تا کہ ایک طرف عورتیں اپنا ذاتی کاروبار شروع کر سکیں اور دوسرا منافع کے ساتھ ساتھ قرضے کی رقم ادا کرنے کی بھی استعداد پیدا کریں۔ محمدیونس کو نہ صرف اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی بلکہ انہوں نے بنگلہ دیش کے غریب لوگوں کے لئے قرض کی آسان فراہمی کیلئے گرامین بنک(دیہاتی بنک) قائم کر دیا۔ چھوٹے قرضوں کی اس معاشی سکیم نے نہ صرف غریبوں کیلئے بہترین روزگار مہیا کیا بلکہ ملکی برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ سیاست میں بھی حصہ لیا لیکن پھر الگ ہو گئے۔5کتب کے مصنف بھی ہیں۔
( 03 ) یوسف القرضاوی مصر وقطر


حافظ قرآن ہیں اور1973ء میں اسلامی فکر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ پھر اس دوران مصری مذہبی امور کے شعبے اور پھر قطر کے تدریسی مکاتب سے وابستہ رہے۔ اخوان المسلمین سے وابستگی کی وجہ سے1949ء میں جیل جا چکے ہیں۔ وہ دینی و دنیاوی معاملات میں فتوے دینے کو اہمیت دیتے ہیں لہٰذا آج انہیں عرب دنیا میں غیر معمولی شہرت حاصل ہے۔ ٹی وی کے پروگرام میں جوابات دینے کی وجہ سے انہیں معتدل قدامت پسند قرار دیا جاتاہے جو دور حاضر کے مطابق اسلامی اصولوں پر زندگی گزارنے کیلئے رہنمائی کرتے ہیں‘ یہ تیسرے نمبر پر ہیں۔
 ( 04 ) اورھان پاموک ترکی


ترکی کے مشہور ناول نگار فلمی ادیب اور سیاسی دانشمند ہیں جن کو یہ بیان دینے پر کہ جنگ عظیم اول کے دوران دور عثمانیہ میں لاکھوں آرمینیوں کی نسل کشی کی گئی اور ہزاروں افراد کو قتل کیاگیا تھا‘2005ء میں ترکی عدالت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ الز ام یہ تھا کہ انہوں نے ترک شناخت کی توہین کی ہے۔ 2006ء اکتوبر میں انہیں سویڈش اکیڈمی کی طرف سے لٹریچر میں نوبل انعام دے دیاگیا۔ صحافت میں گریجویشن کی لیکن صحافت کے شعبے سے وابستہ نہ ہوئے اور ناول نگار بن گئے۔ آج تک 46زبانوں میں ان کے مختلف ناولوں کے تراجم ہو چکے ہیں۔

( 05 ) عمرو محمد حلمی خالد مصر


ان کا خاندان کچھ خاص مذہبی نہیں تھا لیکن عمرو خالد نے زندگی کو بامعنی بنانے کی جدوجہد میں مذہب سے تعلق جوڑ لیا۔1997ء میں انہوں نے اپنے حلقہ احباب کی دعوت پر مسجد میں بیان کیا تو انہیں پذیرائی حاصل ہوئی۔ 2001ء میں اسلامک سٹڈیز میں ڈپلومہ حاصل کیا اور مئی2010ء میں یونیورسٹی آف ویلز لیمپ پیٹر سے اے گریڈ میں پی ایچ ڈی بھی کرلی‘ اس دوران انہوں نے ٹی وی پروگرامز کے ذریعے دینی لیکچرز دینے کا آغاز کر دیا ۔ ان کے لیکچرز میں اسلامی اصولوں سے زیادہ اس بات پر زور دیاجاتاہے کہ جدید زندگی کی رعنائیوں میں روحانیت کا پہلو تلاش کرتے رہو۔ ان کا پیغام ہے کہ مذہبی برداشت اور مغرب سے بات چیت جدید دنیا میں اہم پہلو سمجھے جائیں۔
( 06 ) عبدالکریم سوروش ایران


انہوں نے فارمیسی میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد لندن یونیورسٹی سے کیمسٹری اور جیلسیا کالج لندن سے تاریخ اور فلسفہ کے علوم میں تعلیم حاصل کی۔ آیت اللہ خمینی نے انہیں’’ثقافتی انقلاب‘‘ کمیٹی کی اس 7رکنی ٹیم میں شامل کیا جس کا مقصد تعلیمی نصاب ترتیب دینا تھا۔ اس دوران انہوں نے تعلیمی ادارے قائم بھی کئے ۔ اصلاح پسند پروفیسر سوروش کو اسلام تاریخ اور فلسفہ بلکہ خصوصی طور پر رومی فلسفہ کا ماہر سمجھا جاتاہے۔ ان کی کتب و لیکچرز ان کے نظریات کو واضح کرتے ہیں اور اس وجہ سے بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں بھی انہیں اہمیت دی جاتی ہے۔
( 07  )  طارق رمضان سوئٹزر لینڈ


اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء کے نواسے ہیں ۔ فلسفہ اور فرنچ ادب میں ماسٹر اور جنیوا یونیورسٹی سے عربی و اسلامک سٹیڈیز میں پی ایچ ڈی کی۔ مذہبی خاندانی پہچان نے دینی رغبت کو مزید اجاگر کیا توقاہرہ یونیورسٹی میں اسلامی فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ 2003ء تک سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی سے تعلق رہا اور پھر2005ء سے آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔
( 08 ) محمود ممدانی یوگنڈا


9ویں نمبر پر آنے والے یوگنڈا کے وہ معروف انسان شناس دانشور ہیں جن کو بین الاقوامی سطح پر افریقہ کی سیاست اور معاشرے کا مبصر سمجھا جاتاہے۔ بھارتی نژاد محمود ممدانی نے یوگنڈا میں پرورش پائی اور تعلیم حاصل کی۔ سیاسیات میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ یوگنڈا کی جامعہ مکیریری کمپالا میں ملازمت کے دوران انہیں اس وقت کے صدر عیدی امین نے ’’ نسلی معاملے‘‘ پر برطرف کر دیا۔ اس کے بعد وہ امریکا ٗ انگلستان اور افریقی ممالک میں ایک تو اپنی تدریسی ذمہ داریاں نبھاتے ر ہے اور واضح کرنے کی کوشش کی کہ موجودہ دور میں جو اسلام سے دہشت گردی کو منسلک کیا جا رہا ہے یہ اصل میں ان باغی طاقتوں کا انتشار ہے جو ’’کولڈوار‘‘ کے آخری دنوں میں ان بڑے ممالک کی پشت پناہی سے وجود میں آیا ہے۔ جوکولڈوار کے اہم کردار رہے ہیں۔ بہت سی کتب کے مصنف بھی ہیں۔
( 09 )  شیریں عبادی ایران


پہلی ایرانی خاتون ہیں جنہیں2003ء میں ’’جمہوریت و انسانی حقوق‘‘ کیلئے خدمات انجام دینے پر نوبل انعام سے نوازاگیا۔ تہران یونیورسٹی فیکلٹی آف لاء سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور کچھ تجربے کے بعد جج بن گئیں۔ ساتھ میں قانون میں ڈاکٹریت بھی کرلیا۔ 1974ء میں وہ پہلی ایرانی خاتون تھیں جنہیں تہران سٹی کورٹ بنچ 24کا صدر کا اعلیٰ ترین عہدہ دیا گیا۔ وہ اسلامی انقلاب کی حامی رہی ہیں اور قوم پرست ہیں۔ یہ ایک مصنفہ بھی ہیں۔

( 10 ) اعتزاز احسن پاکستان

 

پاکستان کے مایہ ناز بیرسٹر ہونے کے ساتھ انسانی حقوق کے علمبردار مصنف اور سیاستدان بھی ہیں۔1988ء اور1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت میں اہم وزارتوں پر رہے۔ وہ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں لہٰذا انہوں نے 2وزرائے اعظم بے نظیر اور نواز شریف کی طرف سے مقدمات کی پیروی بھی کی۔ مختلف برسوں میں سینیٹ و قومی اسمبلی کے رکن رہے‘آج کل بھی پی پی پی کے سینیٹر ہیں ۔ مارچ 2007ء میں صدر جنرل مشرف کی طرف سے افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کے عہدے سے برطرف کرنے پر ’’ججز بحالی تحریک‘‘ میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

ایک کتاب ’’دی انڈس ساگا ‘‘ اور’’ میکنگ آف پاکستان‘‘ لکھ چکے ہیں اور کتاب ’’ڈیوائیڈڈبائی ڈیمو کریسی‘‘ میں لارڈمیگھنڈ ڈیسائی کے ساتھ شریک مصنف ہیں۔ ترتیب میں 5واں نمبر ہے۔