سوشل میڈیا استعمال کرنے کے آداب ..... Social Media Use Karne K Adaab

سوشل میڈیا استعمال کرنے کے آداب
1.جو بھی قرآنی آیت یا حدیث آپ کے پاس آئے اس کو فارورڈ کرنے سے پہلے چیک کرلیں یا کسی مستند عالم سے پوچھ لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے اوپر جھوٹی حدیث کو پھیلانے کا وبال اور گناہ آجائے ۔
2.آپ سوشل میڈیا کو لوگوں کی برائی اور غیبت کا ذریعہ نہ بنائیں ، یاد رکھیں کہ صرف ایک غیبت والی بات شیر کرنے کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کا گناہ آپ کے سر آجائے گا اور آپ کو معلوم بھی نہیں ہوگا. ہمارے پیارے نبی صلي الله عليه وسلم كافرمان ہے کسی مسلمان کی غيبت کرنا ایسا ہے جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا
3.لوگوں کی عزت کے پیچھے نہ پڑیں ، کسی کی جاسوسی نہ کریں، کیونکہ جو دوسروں کی عزت پر ہاتھ ڈالتا ہے اللہ تعالی اسے ذلیل ورسوا کردیتا ہے ۔ شہد کی مکھی کی مثال بنیں جو خوشبودار چیزوں پر ہی بیٹھتی ہے اور لوگوں کو فائدے کی چیز"شہد" دیتی ہے ۔ ایسے حادثات و واقعات کو شیر نہ کریں جن سے کوئی فائدہ نہ ہو، لوگوں کو خوش کریں نہ کہ مایوس کریں۔ مکھی کی مثال نہ بنیں جو گندگی پر ہی بیٹھتی ہے
4.اپنے ملک و وطن سے متعلق غلط باتیں شیر نہ کریں ، ایک ذمہ دار شہری بنیں ۔ اللہ کا شکر بچالائیں کہ آپ اپنے ملک میں آزادانہ طور پر اپنے دین پر عمل کرسکتے ہیں۔
5.دوسروں کی خصوصا علمائے کرام کی عیب جوئی نہ کریں، مگر یہ کہ کسی غلطی پر متنبہ کرنا ہو ۔ ( اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کے اس کو اکیلے { ان بوکس } میں سمجائیں ناکہ اس کو سب کے سامنے ذلیل كریں ) دوسروں میں عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کی زیادہ فکر کریں ، اس لئے کہ عیب تلاش کرنے کے لئے زبان سب کے پاس ہے
6.کوئی لنک شیر کرنے سے پہلے چیک کرلیں ، کہیں انجانے میں خلاف شرع یا غير اخلاقی بات یا ویڈیو یا تصویر یا آڈیو نہ شیر کردیں۔
7.کسی کو کوئی بھی میسیج بھیجنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ یہ وقت مناسب ہے کہ نہیں ۔
8.کوئی ضروری نہیں کہ ہر وہ چیز جوآپ کے پاس آئے اسے بنا سوچے سمجھے شیرکریں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہرسنی سنائی بات بیان کرے" اس لئےصرف تحقیق شدہ چیزوں کو ہی بھیجا کریں ۔
9.ہمیشہ سوشل میڈیا سے چپکا رہنا مناسب نہیں ، مہمان ہو تو ان کا خیال کریں، کلاس روم میں ہوں ، والدین کے پاس ہوں، یا احباب کے ساتھ ہوں اس وقت سوشل میڈیا سے دور ہی رہیئے گا یعنی صرف مناسب اوقات میں ہی سوشل میڈیا کا استعمال کریں ۔
10.اپنے اوقات کامحاسبہ کریں کہ کتنا وقت سوشل میڈیا کو دینا ہے اور کتنا وقت سوچ سمجھ کر قرآن کریم اور حادیثوں کو پڑھنا ہے اور دین سیکھنا، سکھانا ہے اور کتنا وقت دیگر ضروری امور کو دینا ہے اس کے بعد اپنے وقت کو صرف کرنے کا صحیح روٹین تیار کریں۔
11.لوگوں کو زیادہ سے زیادہ قرآن و حدیث کی صحیح باتیں پہنچائیں اور عوام میں پھیلے غلط افکار ونظریات کی بھرپورتردید کریں لیکن واضح رہے اپنی دعوت کا محور عقیدہ توحید کو بنائیں۔
12.جو بھی چیزیں دوسروں کو بھیجتے رہیں گے وہ سب آپ کے نامہ اعمال میں اندراج ہوتا رہے گا ۔ اس لئے آپ کی ہمیشہ یہ کوشش ہو کہ ہمارے نامہ اعمال میں کارثواب لکھا جائے اورعذاب والے تمام کام سے پرہیز کریں۔