Search This Blog

ویب سائٹ برائے فروخت ہے

ویب سائٹ برائے فروخت ہے
ملین ویزیٹرز اور تمام سوشل میڈیا پروفائل اور پیچ کے ساتھ

GB

GB

Shigar

Shigar

Churkah

Churkah

جنید سے لالہ آفریدی تک

جنید جمشید کے متنازعہ گستاخانہ بیان پہ بہت مذمت ہوئی اور بہت بہتر ہوئی.انہوں نے اعتراف جہالت اور کھلے عام معافی بهی مانگی ، ان پہ مقدمہ بهی ہوا .اب یہ عدلیہ پہ چهوڑنا چاہیے تها کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے.لیکن منہ زور واعظوں ، بے لگام پیروں اور فرقہ پرست ملاؤں نے اس بیان کی آڑ میں اپنی "فرقہ ورانہ دکان " کهول دی.طرفین نے ایک دوسرےکی کتابوں میں پڑے گند اور کچرے کو پهر سے نکال کے فٹ پاتھ پہ لگایا. اس کوشش میں کہ ایک دوسرے کی کتابوں سے ایک دوسرے کو گستاخ اور مقدس و محترم ہستیوں کی توہین کا مرتکب ثابت کیا جاسکے.!
اس پورے مسئلے میں گو تبلیغی جماعت کا رد عمل اچها رہا.تاہم جماعت کے اکابرین کو اپنے منہج میں نظرثانی کرنی ہوگی.طارق جمیل صاحب نے اس بیان کو جنید کا ذاتی فعل قرار دے کر وقتی طور پہ خود کو تنقید سے تو بچالیا. لیکن ان تمام فتوؤں ، ان سب خرافات اور ان سبهی بے سروپا حکایتوں و روایتوں کا دفاع انہیں کرنا ممکن نہیں ہوگا جو تبلیغیوں کے باعث پورے معاشرے میں پھیل چکی ہیں. تبلیغی صاحب "سہ روزہ" یا "چلہ" لگاکر جب لوٹتا ہے تو خود کو مفتی اعظم اور خضر وقت سمجهنے لگتا ہے.مسند وعظ و منبرخطابت پہ فروکش ہوکے اپنی جہالت کے باعث بسا اوقات صحیح عقیدے اور توحید خالص سے متصادم باتیں عوام میں پھیلاتا ہے.
جنید جمشید کا معاملہ بهی کچهه ایسا ہی ہے .ادهر اس نے موسیقی چهوڑی ادهر اس بچارے کو منبر پہ بٹهایا.لالہ آفریدی تین روز کے لیے کیا نکلا تها ، جید علمائے کرام کی موجودگی میں انہیں وعظ و نصیحت کے لیے جامع مسجد میں کهڑا کیا.انہوں نے کیا بولنا تها ، ہاتهہ میں گیند بهی نہیں تهی ورنہ کچهه دیر وہی چباتا !!!تبلیغی جماعت کی محنت اور خلوص میں کوئی دو رائے نہیں تاہم:
"تبلیغ دین کی کلیدی اساس علم و تعلم اور شریعتِ محمدی سے آگہی ہے."
فردوس جمال
مدينه منوره
Share on Google Plus

About GB NEWS ONE

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.