مجبوری کا بندهن




ایک عرب شیخ کا ٹیوٹر ٹویٹ! *ترجمہ :فردوس جمال" 
میں ہر صبح اپنی بیگم کو اس کی یونیورسٹی چهوڑنے جاتا تها.یونیورسٹی کے مین گیٹ پہ پہنچ کے میں گاڑی روکتا اور نیچے اتر کر دوسری طرف کا دروازہ کھولتا ،خوش اسلوبی اور تبسم ہونٹوں پہ بکهیرتے مگر ہاتهہ پکڑ کے انہیں نیچے اتارتا،وہ اپنی سہیلیوں کے ساتهه ہنستی مسکراتی اندر چلی جاتی اور میں گهر کی راہ لیتا ، دوپہر میں آتا چاک و چوبند شاہی نوکر کی طرح گاڑی کا دروازہ کھولتا وہ کسی شہزادی کی طرح گاڑی کی فرنٹ سیٹ میں اک ادائے دلبرانہ اور مسکان قاتلانہ کے ساتهه فروکش ہوتی پهر ہم گهر چلے جاتے اگلی صبح پهر .....یہ ہمارے روز کا معمول تها.ادهر یونیورسٹی میں ، میرا چرچا لڑکیوں کے درمیان خوب ہوا جارہا تها.کوئی کہتی "اللہ ہر کسی کو ایسا رومانس اور ٹوٹ کے محبت کرنے والا شوهر دے." تو کسی کے لبوں میں دعائیں ہوتی ."خدایا اس جوڑے کو صدا سکهی اور شاد رکهه "
کچهه رشک کی انتہا کو پہنچتی "رب کریم مجهے بهی ایسا ہی چاہنے والا شریک حیات نصیب کر."
لیکن سچ میں ہمارے درمیان کوئی رومانس تها نہ محبت !!!
دراصل گاڑی کا دروازہ خراب تها جو صرف باهر سے کهولنے کی صورت ہی کهلتا تها.
ههههههه