Search This Blog

ویب سائٹ برائے فروخت ہے

ویب سائٹ برائے فروخت ہے
ملین ویزیٹرز اور تمام سوشل میڈیا پروفائل اور پیچ کے ساتھ

GB

GB

Shigar

Shigar

Churkah

Churkah

موتیوں کا ہار اور گمنام جزیرہ


موتیوں کا ہار اور گمنام جزیرہ
------------------------------------------------
(یہ ایک سچی کہانی ہے.جو حافظ ابن رجب رحمة الله عليه نے "طبقات حنابلہ " میں أبوبکرالانصاري البزار کی سوانح حیات کے ذیل میں ذکر کیا ہے. کہانی خود صاحب کہانی کی زبانی سنیے )
------------------------------
عربی سے ترجمہ بقلم:فردوس جمال
مدینہ منورہ
قاضی ابوبکر انصاری فرماتے ہیں.یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں مکہ مکرمہ میں مجاور(1) ہوا کرتا تها.معاش زندگی تنگ تها.ایک روز بھوک کی شدت سے نڈھال ہوگیا .گهر میں بهی بھوک مٹانے کا کوئی سامان نہ تها.سو گهر سے لقمہ عیش کی تلاش میں باہر نکلا کافی دیر کی تلاش بسیار کے بعد بهی کوئی بندوبست نہ ہوا.جس سے پیٹ کی آگ بجھائی جاسکے.البتہ راستے میں ایک تهیلا پڑا ملا.جو ریشم کا تها اور ریشمی دھاگوں ہی سے بندها ہوا.گهر میں لا کر جب کهولا تو چمک سے میری آنکهیں چندیا سی گئ تهیں.تهیلے میں موتیوں، ہیروں اور جواہرات سے پرویا گیا اک بیش قیمت ہار تها. میں نے اس ہارکو دوبارہ اسی تهیلے میں ڈال کر گهر میں رکهه دیا.اور پهر سے بھوک مٹانے کے لیے نکل چلا.اس دوران میں ایک بزرگ کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی وہ بآواز بلند صدا لگا رہے تهے."جس کسی کو بهی میرا کهویا ہوا ریشمی تهیلہ ملا ہے .واپس لوٹانے کی صورت اسے سونے کے پانچ سو دینار انعام میں ملیں گے." میں نے جی ہی جی میں سوچا ،میں حاجت مند ہوں اور بھوک سے برا حال ہوا پڑا ہے.کیوں نہ پانچ سو دینار لے کر ان صاحب کا تهیلہ انہیں لوٹا دوں.پانچ سو دینار سے ضروریات زندگی کی سب اشیاء خرید سکتا ہوں.میرا کیا نقصان ہوگا؟ ہار تو اسی کا ہی ہے . بلکہ مجهے تو الٹا انعام مل رہا ہے.سو میں انہیں ساتهه لیے گهر آیا. پہلے ان کے تهیلے اور اس میں موجود ہار کی نشانیاں ان سے پوچھی، جب مجهے یقین ہوا کہ ہار انہی کا ہی ہے . تهیلےکو میں نے ان کے ہاتهہ میں پکڑا دیا.انہوں نے بصد خوشی وشکریہ پانچ سو دینار بطور انعام میرے سامنے رکهہ دیے .میرے ضمیر نے مجهے انعام لینے سے روکا .وہ اصرار کرتے رہے اور میں انکار.پهر انہوں نے وہ پانچ سو دینار اٹها کے اپنی جیب میں ڈالے . اور گهر سے نکل گیے وہ بزرگ حج پہ آئے ہوئے تهے . سو موسم حج کے ختم ہوتے ہی وہ اپنے ملک لوٹ گیے.وقت کے گزرنے کے ساتهہ یہ قصہ بهی ماضی کا حصہ بن چکی.پهر ایک روز میں مکہ مکرمہ سے سمندری سفر پہ نکلا.سفر طویل اور موسم ناموافق تها.بیچ سمندر میں، طوفان نے ہمیں آگهیرا. سمندر کی طوفانی موجیں ہماری بادبانی کشتی سے ٹکرائیں.کچهه ہی دیر میں کشتی ٹوٹ گئ اور سب رکاب مال ومتاع سمیت ڈوب گیے.میری خوش نصیبی اور زندگی باقی تهی ، میں شکستہ ناؤ کے ایک تختے کے اوپر رہ گیا.لیکن میں بپهرے سمندر اور طوفان کے رحم وکرم پہ تها.مجهے نہیں معلوم تها کہ طغیانی موجیں مجهے کس سمت لے کے جارہی ہیں.کافی وقت یہی صورت حال رہی ، کبهی موجیں مجهے ساحل کے قریب کرتیں پهر بیچ سمندر دھکیل دیتی .خدا خدا کرکے ایک جزیرہ نظر آیا اور موجوں نے مجهے سمندر کے کنارے پهینک دیا.میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لایا.اس جزیرے میں ایک اجنبی اور انوکھی قوم آباد تهی .وہ مجهے اپنی بستی میں لے گیے.بستی میں پہنچ کے میں نے مسجد کی راہ لی.مجهے قرآن مجید کی تلاوت کرتے سن کر شام کو گاؤں کے سب سرکردہ لوگ جمع ہوئے اور مجهہ سے تقاضا کرنے لگے کہ آپ یہیں ہمارے پاس ، ہماری بستی میں ٹهریں اور سب بستی والوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیں.سو میں نے انہیں قرآن مجید کی تعلیم دینی شروع کی .اس سے مجهے زهنی اور معاشی آسودگی ملی.پهر اک مدت کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ میں لکهہ بهی لیتا ہوں.وہ ان پڑهه قوم تهی .سو مجهہ سے تقاضا کرنے لگی کہ ہمارے جوانوں اور بچوں کو آپ لکهنا بهی سکھائیں. میں نے ہامی بهری.اب بستی کے جوان، بچے سب میرے پاس صبح شام حاضر ہونے لگے تهے.میں انہیں خوب محنت سے لکهنا پڑهنا سکھاتا تها. اب ان کا اصرار بڑهه گیا کہ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے ہاں رہوں.ان کے ساتهہ رہوں.میرے دائمی اور مستقل قیام کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے ایک راہ بهی نکال لی.کہنے لگے ہماری بستی میں ایک یتیم لڑکی رہتی ہے آپ کو ان سے شادی کرنی ہوگی.میں مسلسل انکار کرتا رہا اور وہ مجهے قائل کرنے کی متواتر کوشش.!
پهر میں نے سوچا اس اجنبی جزیرے میں رہنے کے علاوہ میرے پاس کوئی دوسرا آپشن بهی تو نہیں ہے.سو میں نے ان کے اصرار کے آگے ہتھیار ڈال دیا.چنانچہ انہوں نے میرے لیے اس یتیم لڑکی کو تیار کیا، بناو سنگھار کیا.تاکہ میں نکاح سے پہلے اسے اس حد تک دیکهہ سکوں .جس قدر شرعیت نے جائز کیا ہوا ہے.سو محفل سجائی گئ.لڑکی کو میرے سامنے بیٹهایا گیا.میں نے حیا بهری پہلی نظر اٹھائی اور میری نظریں ان کی گردن پہ ٹهر گئیں.اس کے اقرباء مجهے حیرت سے دیکھنے لگے.
اور کہہ اٹهے .یا شیخ! آپ نے تو یتیم لڑکی کا دل ہی توڑ دیا.آپ کی نگاہیں ان کے چاند چہرے کا طواف کرنے کی بجائے ان کے گلے پہ موجود ہار پہ ٹکیں ہیں؟!.میں چونک سا گیا اور کہنے لگا اس ہار کی کہانی تو بہت دلچسپ ہے.....وہ پوچھنے لگے .ہمیں بهی سنائیں کیا خاص کہانی جڑی ہوئی ہے اس ہار سے.؟پهر میں نے انہیں ساری کہانی سنا ڈالی.لیکن ان کے ردعمل نے مجهے ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہانی سننے کی دیر تهی انہوں نے اللہ اکبر اور سبحان اللہ کی صدائیں بلند کرنی شروع کیں.وہ دیوانہ وار چیخ رہے تهے.ان کی بلند ہوتی واشگاف صدائیں پورے جزیرے میں گونجنے لگی تهیں.میں نے کہا سبحان اللہ!! یہ تمہیں ہو کیا گیا ہے؟ کہنے لگے جس بزرگ نے مکہ مکرمہ میں آپ سے اپنا گمشدہ ہار لیا تها وہ اسی لڑکی کا والد تها.جو اب اس دنیا میں نہیں رہے.حج سے واپس لوٹنے کے بعد وہ ہمیشہ تمہاری کہانی سناتے تهے اور ہم بڑے شوق سے سنتے تهے.وہ کہا کرتے تهے میں نے روئے زمین کے اوپر اس نوجوان جیسا کوئی مسلمان نہیں دیکها جو مجهے مکہ مکرمہ میں ملا تها پهر وہ ہمیشہ کہانی کے آخر میں ایک دعا مانگا کرتے تهے."اے اللہ مجهہ سے اس نوجوان کو دوبارہ ملا دیں .تاکہ میں اپنی بیٹی اس نیک انسان کے عقد میں دے سکوں." اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو یہاں پہنچایا....بہرحال میرا اس لڑکی سے نکاح ہوا.زندگی کے کئ سال .کئی بہاریں ہم نے ساتهہ گزاریں.اللہ تعالیٰ نے مجهے ان سے دو بیٹے بهی عطا کیے.وہ بہت نیک اور پرہیزگار خاتون تهی پهر ان کا انتقال ہوا. اللہ ان پر رحمتوں کی برکها برسائے.اب میں اور میرے بیٹے اس موتیوں کی ہار کے وارث بن گیے.ایک مدت کے بعد یکے بعد دیگرے میرے دونوں بیٹے بهی فوت ہوگیے.بیٹوں کے گزر جانے کے بعد میں اکیلا اس ہار کا وارث رہ گیا .چنانچہ میں نے وہ ہار ایک لاکهه دینار میں فروخت کیا.....!!!
--------------------
سبق:
"من ترك شيأ لله عوضه خيرا منه"
جو شخص اللہ کی خوشنودی کے لیے من پسندچیز چهوڑ دیتا ہے .اللہ انہیں بدلے میں اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے.(حدیث نبوی)
------------
#:(1) معنی "مجاور" گزرے وقتوں میں دور دراز سے حج پہ آئے علماء كرام اور تشنگان علم ادائگی حج کے بعد حرمین شریفین میں ہی مختصر قیام کرتے اور تعلیم وتعلم کی مجلسیں آباد کرتے تهے ، علمی حلقات کا انعقاد کرتے .خلق کثیر اور طلاب علم ان سے مستفید ہوتے .ایسے افراد" مجاورین" کہلاتے تهے..
------------------------------------------
بشکریہ:ساجد احمد. جنہوں نے اس خوبصورت کہانی کے ترجمے کی طرف میری توجہ دلائی.
Share on Google Plus

About GB NEWS ONE

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.