( هم رجال و نحن رجال) اک فکاہیہ تحریر: بقلم :فردوس جمال


( هم رجال و نحن رجال)

اک فکاہیہ تحریر: بقلم :فردوس جمال 
مدینہ منورہ 
---------------------------------------------------------------------------
ایچ ایم ٹی صاحب ہمارے اچهے دوست ہیں.ان کی خاص بات یہ ہے ، آپ جب بهی ان کی زیارت کرنے چلے جائے "ٹی" ان کے پاس تیار ہوتی ہے.گو وہ جس پانی سے چائے بناتے ہیں اس پہ تحقیق ابهی جاری ہے.(الزام ہے کہ موصوف ٹی کا پانی واش روم کی نل سے بھرتے ہیں). کل وقتی صوفی اور جز وقتی حکیم بهی ہیں.ان کے روم میں حکمت سے متعلق بہت سی چیزیں آپ کو ملیں گی.شهد ، کلونجی ، دیسی ادویات وغیرہ.ان کے ایک مریض نے نام نہ ظاهر کرنے کی شرط پہ بتایا کہ وہ دراصل ٹهیک ہی نہیں ہونا چاہتے ہیں.ان کی نگاہ حکیم صاحب کی شهد پہ تهی وہ سب اکیلے ہی چاٹنا چاہتے ہیں .ہم نے کبهی انہیں حکیم کہا نہ ہی نیم حکیم اس لیے کہ ہمارے درد کی ان کے پاس دوا تهی ہی نہیں ، ہمارے عزیز دوست اور شاعر ذاهد سعید ہمیشہ ان صاحب کی حکمت کے قائل رہے ہیں.لیکن ہم ان کی حکمت سے کبهی متاثر یا "متاثرین" میں سے نہیں ہوئے تهے.کچهہ روز پہلے اک نجی محفل میں ہمارے اس حکیم صاحب نے ایک ایسا دعوی کیا کہ آج کل ہم ان کے مرید بن چکے ہیں.موضوع سخن زهد و تقوی اور" فنا فی اللہ" تها.اس ٹاپک پہ سلف صالحین کی روشن مثالیں پیش کیں گئیں.پهر کسی صاحب نے کہا "ابو حنیفہ رحمة الله عليه چالیس سال مسلسل عشاء کے وضوء میں فجر کی نماز ادا کرتے رہے تهے" کوئی بولا "حضرت مولانا( سوری ) ڈاکٹر علامہ طاہر القادری عليه ما عليه بهی تیس سال یہی کچهه کرتے رہے ہیں." ہم شرمندہ تهے کہ کہاں ہم اور کہاں وہ ہمیں تو مغرب کے وضو میں عشاء کی نماز ادا نہیں ہوتی ہے.اس دوران میں حکیم صاحب نے لبوں کو جنبش دی تهی .مگر اب کے حکمت نہیں ٹپکی تهی "کرامت " کا ہم پہ انکشاف ہوا تها.جی ہاں " کرامت" حکیم صاحب بولے " صاحبو! یہ بندہ ناچیز ایک مدت سے فجر کے وضو پہ ظهر کی نماز ادا کرتے رہے ہیں ." پهر حکیم صاحب اٹهہ کے "حکمت خانہ" چلے گیے ہم وہی بیٹهے ان کی کرامت کی تاویلیں کرتے رہے . ٹی ایس ٹی صاحب نے کہا کہ کہیں حکیم صاحب کا وضو اس امام کی طرح تو نہیں جنہوں نے بیس سال بغیر وضو کے لوگوں کو امامت کرائی پهر ایک روز کہیں بیان سنا "وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے."ہنستے ہوئے کہنے لگا بے وقوف لوگ ہیں کہتے ہیں وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے. میں بیس سال تک پڑهاتا رہا ہوں .وہ نماز نہیں تو کیا روزہ تها ؟! خیر حکیم اتنے کج فهم بهی نہیں ہوسکتے تهے.کافی روز تک یہ کرامات دوستوں کے عتاب اور تجسس کے زیر کرم رہی پهر سارے معمے کی گرہ کهل گئ ، کرامت کا بھانڈا پھوٹ گیا.حکیم صاحب بهی اپنی جگہ درست تهے.دراصل مخبر نے یہ سراغ لگایا کہ حکیم صاحب فجر کی نماز دن دس بجے پڑھتے ہیں، اور پهر اسی وضو سے نماز ظهر ادا کرتے ہیں. اس دن سے ہمیں اس جملے کی سمجهه آئی .
(هم رجال ونحن رجال)